اسرائیلی فوج نے یوم الارض کے موقع پر غزہ کی پٹی میں فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کر دی ہے جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی نوجوان شہید ہو گیا ہے جبکہ قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں میں تیس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کی ایریز بارڈر کراسنگ پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے ایک بیس سالہ فلسطینی نوجوان شہید ہوگیا۔اس کانام محمد محمود زقوت بتایا گیا ہے۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے قصبوں بیت حانون اور خان یونس میں قابض فوج کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپوں میں سینتیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی پولیس اور فوج نے جمعہ کو یوم الارض کے موقع پر فلسطینی نواز کارکنان کے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر غزہ کی پٹی کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام بارڈر کراسنگز بند کر رکھی ہیں اور لبنان اور شام کی سرحدوں پر گشت بڑھا دیا ہے۔
یوم الارض ہر سال تیس مارچ کو 1976ء میں صہیونی حکومت کی قبضے کی پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہادت پانے والے چھے فلسطینیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اُس سال اسرائیلی فوج کے وادی الجلیل میں عرب سر زمین پر قبضے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔
اس مرتبہ وادی جلیل کے قصبے دیرھناء میں فلسطینی سب سے بڑا مظاہرہ کررہے ہیں۔اس کے علاوہ مغربی کنارے ،غزہ کی پٹی اور مقبوضہ بیت المقدس میں نماز جمعہ کے بعد فلسطینی اسرائیلی فوج کی قبضے کی پالیسی اور چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔
صہیونی فوج نے فلسطینیوں کو مظاہروں سے روکنے کے لیے غزہ کی پٹی کے بعد اب مغربی کنارے کا بھی مکمل محاصرہ کررکھا ہے۔مغربی کنارے اور اسرائیل کی بیرونی سرحدوں پر بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔اسرائیلی پولیس کے وزیر اضحاک احرنووچ نے آرمی ریڈیو کو بتایا کہ ملک بھر میں فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔اسرائیلی فوج نے جمعہ کو آدھی رات تک سرحدی گذرگاہیں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ گولان کی پہاڑیوں پر شام کے ساتھ جنگ بندی لائن پر نئی باڑھ لگا دی گئی ہے اور وہاں بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہے تاکہ وہاں گذشتہ سال کی طرح کا تشدد کا کوئی واقعہ رونما نہ ہو۔
اسرائیل کی جانب سے ان سخت اقدامات کے برعکس مظاہروں کے منتظمین نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی چیرہ دستیوں کے خلاف پُرامن انداز میں احتجاج کے پروگرام ترتیب دیے ہیں۔ وہ اردن اور متعدد یورپی ممالک میں اسرائیلی سفارت خانوں کے سامنے بھی احتجاجی ریلیاں منعقد کرنے والے ہیں اور اس دوران وہ صہیونی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کسی قسم کی محاذآرائی کاکوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے چالیس سے کم عمر مسلمانوں پر مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے پر پابندی عاید کردی تھی اور مغربی کنارے کے دوسرے شہروں سے مقبوضہ بیت القدس کی جانب آنے والے فلسطینیوں کو چیک پوائنٹس پر ہی روک دیا گیا۔
یوم الارض کے موقع پر اسرائیل کے خلاف مظاہروں کو منظم کرنے والے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان میں مشرق وسطیٰ کے علاوہ مشرق بعید سے تعلق رکھنے والے فلسطینی نواز کارکنان بھی شرکت کر رہے ہیں اور ان کو ''القدس کی جانب عالمی مارچ'' کا نام دیا گیا ہے جبکہ عرب دنیا میں بھی اسرائیلی سرحدوں کی جانب احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی گئی تھی۔
ایک سنئیر فلسطینی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ان ریلیوں کا بنیادی مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیر کی جانے والی یہودی بستیوں کی مخالفت میں اسرائیل کو واضح پیغام دینا ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس کی شناخت کو تبدیل کرنے کے لیے صہیونی ریاست کے اقدامات کی مخالفت کی جائے گی۔