مصر: سلفی جماعت کے ایک اور رہ نما کی اداکارہ سے شادی کا اسکینڈل؟

حزب النور کی جانب سے شادی کی نئی اطلاع کی تردید

نشر في:

مصر میں سلفی مسلک کے پیروکاروں کی سیاسی جماعت "حزب النور" کے لیڈر ان دنوں فن کاراؤں سے شادیوں کے ایک رُسوا کن اسکینڈل کی زد میں ہیں۔

دو ہفتے پیشتر جماعت کے ایک سابق مرکزی رہ نما الشیخ انور البلکیمی کی معروف فن کارہ سماء المصری کے ساتھ خفیہ شادی کا اسکنیڈل سامنے آیا تھا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی ہل چل کی بازگشت ابھی عوام کے کانوں میں گونج رہی تھی کہ سلفی جماعت کے ایک اور دیرینہ رکن کا ایسا ہی اسکینڈل سامنے آ گیا ہے۔اب کہ یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ "حزب النور" کے رکن نادر بکار نے فن کارہ سمیہ الخشاب سے شادی کر رکھی ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق شیخ البلکیمی کی سماء المصری کے ساتھ خفیہ شادی کی خبر سامنے آنے کے بعد دونوں نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔ انھوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی تھی اور ایک دوسرے کو بدنام کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

سماجی رابطے اور بعض اخبارات میں نادر بکار اور سمیہ خشاب کے درمیان شادی کی "افواہ" کے سامنے آتے ہی سلفی سیاسی جماعت النور کے ترجمان ڈاکٹر یسری حماد کو نادر کی صفائی پیش کرنا پڑی ہے۔

" حزب النور" کے ترجمان یسری حماد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے نادر بکار اور سمیہ کے درمیان ازدواجی تعلقات کی سختی سے تردید کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی خبریں محض پروپیگنڈا ہی نہیں بلکہ پارلیمان میں دوسری بڑی جماعت کو عوامی حلقوں میں بدنام کرنے کی سنگین سازش کا حصہ ہیں۔

ڈاکٹر حماد نے استفسار کیا کہ ایسا کیونکر ممکن ہے کہ نادر بکار جیسے کم عمر نوجوان نے اپنی والدہ سے بھی بڑی عمر کی خاتون کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کر لیے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ یہ اسی طرح جھوٹ کا پلندہ ہے جس طرح شیخ انور البلکیمی اور رقاصہ سماء المصری کے درمیان شادی اسکینڈل گھڑا گیا تھا۔

النور پارٹی کے ترجمان نے میڈیا میں آنے والی ان اطلاعات پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی جماعت کے مرکزی رہ نماؤں پر الزام تراشی فساد فی الارض کے زمرے میں آتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میڈیا کے ایک حصے نے سلفی مسلک کو بدنام کرنے کے لیے شرمناک مہم شروع کر رکھی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ میڈیا کا یہی سب سے بڑا گناہ ہے کہ وہ خلاف حقیقت چیزوں کو بھی چھاپ اور نشر کر دیتا ہے۔ میڈیا کو صرف عوام کا دل لبھانے کے لیے خبریں چاہیے ہوتی ہیں ،خواہ وہ سفید جھوٹ ہی کیوں نہ ہوں۔ رہا سماجی رابطے کی ویب سائیٹس تو ان کی حیثیت بے لگام گھوڑے کی ہے، انھیں جس طرف چاہے دوڑا دیا جائے، یہ اسی طرف چلی جائیں گی۔