منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 10 جمادى الأولى 1433هـ - 02 اپریل 2012م KSA 21:47 - GMT 18:47

''فلسطینی سکیورٹی سروسز کا کام قبضے کو تحفظ مہیا کرنا نہیں''

مروان برغوثی کو اسرائیل کے خلاف پُرامن مزاحمت کی اپیل پر قید تنہائی کا سامنا

پیر 10 جمادى الأولى 1433هـ - 02 اپریل 2012م
مروان برغوثی فتح کے سابق سیکرٹری جنرل رہے ہیں۔
مروان برغوثی فتح کے سابق سیکرٹری جنرل رہے ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس۔العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں


اسرائیلی جیل میں بند فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو صہیونی قبضے کے خلاف پُرامن مزاحمت کی اپیل کرنے پر سزا کے طور پر قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی اطلاع کے مطابق اسرائیلی حکام نے مروان برغوثی کو قید تنہائی میں رکھنے کی مدت نہیں بتائی کہ انھیں کب تک جیل کی الگ تھلگ کوٹھڑی میں رکھا جائے گا اور نہ یہ واضح کیا ہے کہ انھیں یہ سزا کیوں دی گئی ہے۔

مروان برغوثی کو گذشتہ بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس کی ایک عدالت میں گواہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔اس موقع پر انھوں نے عربی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں عظیم فلسطینی عوام پر زوردوں گا کہ وہ اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کریں،قومی اتحاد کی حکومت قائم کریں اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے پُرامن انداز میں مزاحمت کریں''۔

وہ اس وقت اسرائیلی جیل میں یہود مخالف حملوں کے الزامات میں سنائی گئی پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔انھیں فلسطینی قیادت کے خلاف امریکا کی دائرکردہ ایک سول قانونی درخواست کے ضمن میں بیان کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

مروان برغوثی ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے اسرائیل میں شہریوں کے خلاف حملوں کی حمایت نہیں کی تھی اور حالیہ برسوں میں وہ اسرائیلی قبضے کے خلاف پُرامن مزاحمت پر اصرار کرتے چلے آرہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے انھوں نے اپنی قید کی دس سالہ مدت پوری ہونے پر فلسطینی اتھارٹی کو ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے اتھارٹی پر زوردیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہرطرح کے رابطے منقطع کردے۔سوموار کو شائع ہونے والے اس خط میں انھوں نے فلسطینی صدر سے کہا کہ انھیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کے مذاکرات کام نہیں کررہے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ فلسطینی سکیورٹی سروسز کا کام فلسطینی شہریوں کا تحفظ کرنا ہے نہ کہ قبضے کو تحفظ مہیا کرنا۔انھوں نے صدر محمودعباس پر زوردیا کہ وہ اس التباس کی مارکیٹنگ چھوڑ دیں کہ مذاکرات کے ذریعے قبضے کا خاتمہ ممکن ہے۔

مروان برغوثی اس سے قبل مقبوضہ بیت المقدس میں میجسٹریٹس کی عدالت میں پیشی کے موقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں کو خالی کردے اور فلسطینی ریاست قائم ہوجائے تو اس صورت میں مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ مروان برغوثی ایک بااثر لیڈر رہے ہیں اور انھیں فلسطینی عوام میں بے پایاں مقبولیت حاصل ہے،انھوں نے نوے کے عشرے میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان طے پائے اوسلو معاہدے کی حمایت کی تھی لیکن اسرائیل نے انھیں صہیونی قبضے کے خلاف سن 2000ء میں شروع ہوئی دوسری انتفاضہ تحریک کا روح رواں قراردیا تھا۔انھیں اسرائیلی فورسز نے اپریل 2002ء میں گرفتار کرلیا تھا۔دوسال کے بعد انھیں یہودیوں کی ہلاکتوں کے الزامات میں ان پر قائم کیے گئے مقدمات میں پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔