منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 11 جمادى الأولى 1433هـ - 03 اپریل 2012م KSA 14:35 - GMT 11:35

عبدالرحمان مکی کی گرفتاری کے لیے تیس لاکھ ڈالرز

امریکا نے حافظ سعید کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کر دی

منگل 11 جمادى الأولى 1433هـ - 03 اپریل 2012م
حافظ محمد سعید ماضی میں ایک عدالتی پیشی کے موقع پ
حافظ محمد سعید ماضی میں ایک عدالتی پیشی کے موقع پ
اسلام آباد ۔ بکر عطیانی

امریکی حکومت نے پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک کروڑ ڈالرز کا انعام مقرر کیا ہے۔

خیال رہے کہ حافظ سعید پر نومبر 2008ء میں بھارت کے شہر بمبئی میں ہوئے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ان حملوں میں کم سے کم 160 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔ لشکر طیبہ ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتی چلی آئی ہے۔

"العربیہ" کے مطابق ماضی میں پس چلمن رہنے والے پروفیسر حافظ سعید ان دنوں افغانستان میں غیر ملکی افواج اور نیٹو کو پاکستان کے راستے سامان رسد کی سپلائی منقطع کرنے کی مہم چلانے والے دینی جماعتوں کے اتحاد "دفاع پاکستان کونسل" کے پلیٹ فارم سے سرگرم ہیں۔ ماضی کے برعکس حافظ سعید اب عوامی جلسوں سے خطاب کرتے اور میڈیا کو انٹرویوز بھی دیتے ہیں۔

امریکا نے لشکر طیبہ کے ایک دوسرے لیڈر اور حافظ سعید کے مقرب خاص حافظ عبدالرحمان مکی کی گرفتاری کے لیے بھی تیس لاکھ ڈالرز کی رقم مقرر کی ہے۔ حافظ عبدالرحمان مکی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک جامع مسجد میں خطیب ہیں۔ وہ مدینہ منورہ کی ایک یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور روانی کے ساتھ عربی بولتے ہیں۔

اسلام آباد میں العربیہ نیوز چینل کی ٹیم پروفیسر حافظ محمد سعید اور عبدالرحمان مکی کے ساتھ کئی مرتبہ ملاقات اور ان کے انٹرویوز کر چکی ہے۔

جماعت الدعوہ ردعمل

جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے اس اقدام کو نیٹو سپلائی کی بحالی کی کوششوں اور ڈرون حملوں کے خلاف جدوجہد سے امریکی اہلکاروں کی ہونے والی بوکھلاہٹ قرار دیا گیا ہے۔

یحییٰ مجاہد نے کہا کہ حافظ محمد سعید اور عبدالرحمان مکی پاکستان کے قومی اور دینی رہنماء ہیں اور وہ غاروں میں روپوش نہیں بلکہ اکثر پاکستان میں ان کے پروگرام ہوتے رہتے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حملوں کے بعد حافظ سعید کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی نظربندی کے دوران لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی ممبئی کا واقعہ زیر بحث رہا تھا لیکن بعد میں ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کی عدلیہ کا احترام کرنا چاہیے اور ایسی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہیے جس سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہو اور امریکہ کے خلاف مزید نفرت ابھرے۔

جماعت الدعوۃ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان رہنماؤں کی جانب سے قوم کو امریکہ، بھارت اور ان کے اتحادیوں کی سازشوں سے آگاہ کیا جانا امریکہ اور بھارت کے لیے شدید مایوسی کی وجہ ہے اور امریکہ بھارتی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ہ ’اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے‘۔

بھارتی ردعمل

ادھر بھارت نے پاکستان میں جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید کی تلاش کے لیے امریکی حکومت کی طرف سے انعام کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے منگل کو دلی میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ بھارت تو پہلے ہی سے حافظ سعید کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’بھارت امریکی حکومت کی طرف سے نوٹیفیکیشن اور انعام کے اعلان کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ممبئی حملوں کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دلانے کے لیے دونوں ملک کافی عرصے سے کوشش کرتے رہے ہیں‘۔

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لڑائی میں ’بھارت اور امریکا بہت قریب آئے ہیں کیونکہ دونوں ہی دہشتگردی سے متاثر ہوتے رہے ہیں اور بھارت تو بار بار ہوتا رہا ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’میں اس وقت یہی کہنا چاہتا ہوں کہ امریکا جب بھی حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرے بھارت اس سے قطعی طور پر مطمئن ہے۔ کیونکہ ہم اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ممبئی حملے کے پیچھے انہی کا ذہن تھا اور دہشت گردی کے لیے سازش کرنے والوں کو بخشا نہیں جانا چاہیے‘۔