منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 12 جمادى الأولى 1433هـ - 04 اپریل 2012م KSA 21:56 - GMT 18:56

مکہ مکرمہ کے تقدس پر العربیہ کی قسط وار پیکج رپورٹ

منیٰ اور مُزدلفہ کے مقدس مقامات کی مناسک حج میں اہمیت مسلم ہے

بدھ 12 جمادى الأولى 1433هـ - 04 اپریل 2012م
حجاج کرام منی ک میدان میں جمع ہیں
دبئی ۔ خالد عویس، العربیہ ڈاٹ نیٹ

مکہ مکرمہ اپنے دینی، ثقافتی اور تاریخی خصوصیات کے اعتبار سے زمین کا ایک بے مثل مقام ہے۔ اس مقام بلند کے ساتھ نسبت خاص رکھنے کی وجہ سے اس کے گرد و پیش کے مقامات بھی تقدس میں اوج ثریا پر متمکن ہیں۔ چند ماہ قبل برطانیہ میں "قلب عالم اسلامی کا ایک سفر" کے عنوان سے سجائی گئی نمائش میں بیت اللہ، مکہ معظمہ اور حرم قدسی کے آس پاس کے مقامات کی تاریخی، ثقافتی اور دینی اہمیت اجاگر کرنے کی ایک بے مثل کوشش کی گئی۔ شاہ عبدالعزیز لائبریری اور میوزیم کو شامل کر کے "لندن نمائش" کو چار چاند لگا دیے گئے۔

"العربیہ" ٹی وی پر مکہ مکرمہ کے تقدس اور زمان ومکان کی اہمیت کے بارے میں اس کے ہمہ جہت پہلوؤں پر ہر ہفتے ایک ویڈیو پیکج رپورٹ میں روشنی ڈالی جاتی ہے۔ بدھ کے روز نیوز بلیٹن میں شامل رپورٹ میں حرم قدسی کے دو اہم مقامات منیٰ اور مزدلفہ کی تاریخی اور مذہبی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مزدلفہ مشاعر مقدسہ کا تیسرا بڑا مبارک مقام ہے جہاں حجاج کرام نزول کرتے ہیں۔ حجاج کرام کا مزدلفہ کی طرف سفر دس ذی الحجہ کی رات ہوتا ہے جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے ہیں۔ حجاج یہیں سے سے جمرے اور کنکریاں اٹھاتے ہیں جنہیں ایام منیٰ کے دوران شیطان کو مارا جاتا ہے۔

مزدلفہ کی وجہ تسمیہ کے لیے مختلف معانی بیان کیے جاتے ہیں۔ چونکہ حجاج کرام رات کے وقت یہاں اترتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے حجاج کا رات کے وقت اترنے کا مقام بھی قرار دیا جاتا ہے۔

مزدلفہ منیٰ اور عرفات کے درمیان واقع ہے۔ مزدلفہ کی طرف راستہ منیٰ اور عرفات کے درمیان دو آمنے سامنے پہاڑی چوٹیوں سے ہو کر گذرتا ہے۔ اسی پہاڑی راستے کو وادی منیٰ کا نام بھی دیا جاتا ہے، جہاں کسی قسم کی آبادی نہیں بلکہ صرف ایک مسجد ہے جسے مسجد مزدلفہ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہاں پر نوافل، دعا اور استغفار مستحب ہے۔ حجاج کرام کے لیے مزدلفہ میں رات کے قیام کے بعد طلوع فجر کو یہاں سے منیٰ کی طرف کوچ کرنا ضروری ہے۔ مزدلفہ میں حجاج کرام کے قیام کی سہولت کے لیے حکومت نے بہترین سروسز فراہم کی ہیں۔

ام القری یونیورسٹی فیکلٹی کے رکن احمد المورعی نے منی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عرفات اور مزدلفہ کے بعد منیٰ اہم ترین مقام ہے۔ یہ ٹیلوں میں گھری ایک وادی ہے جو مکہ مکرمہ کی مشرقی سمت پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں حجاج کرام مکمل ایک دن اور رات قیام کرتے ہیں۔ حجاج یہاں آٹھ ذی الحجہ یوم ترویہ کو داخل ہوتے ہیں اور اسی دن ظہر کے بعد اگلی صبح فجر تک قیام کرتے ہیں۔ اگلے روز نو ذی الحجہ کو میدان عرفات کی جانب روانہ ہوتے ہیں، وہاں سے دس ذی الحجہ کو ایک مرتبہ پھر جمرہ الکبریٰ کے لیے مزدلفہ روانہ ہوتے ہیں۔ رمی جمرات کے دوران حجاج کرام تین دن تک قیام کرتے ہیں جنہیں ایام تشریق کہا جاتا ہے۔ ان دنوں میں جمرہ عقبہ، جمرہ وسطیٰ اور جمرہ صغریٰ کے مناسک ادا کیے جاتے ہیں۔