منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 12 جمادى الأولى 1433هـ - 04 اپریل 2012م KSA 21:53 - GMT 18:53

العربیہ ٹی وی کو خصوصی انٹرویو

امریکا کا میرے سر کی قمیت مقرر کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے: حافظ محمد سعید

بدھ 12 جمادى الأولى 1433هـ - 04 اپریل 2012م
حافظ محمد سعید العربیہ ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دے رہے ہیں
اسلام آباد ۔ بکر عطیانی

کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے امریکی وزارت قانون انصاف کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیے جانے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میری گرفتاری کے لیے ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم مقرر کرنے کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے "العربیہ" سے خصوصی گفتگو میں کیا۔ حافظ سعید کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری کے لیے انعامی رقم اس لیے مقرر کی گئی ہے کیونکہ ہم ان دنوں افغانستان میں غیر ملکی قابض افواج اور نیٹو کو پاکستان کے راستے رسد کی فراہمی روکنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ امریکا کے اس اقدام کا ممبئی حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حملے چار سال قبل ہوئے، ان حملوں میں ملوث ہونے کے بھارتی اور غیر ملکی الزامات کی صفائی ہم عدالتوں میں پیش کر چکے ہیں۔ پاکستان کی عدالتوں نے ہماری بریت کا فیصلہ دے کر تمام الزامات غلط ثابت کیے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں پروفیسر حافظ محمد سعید کا کہنا تھا کہ "میرے لیے یہ بات نہایت افسوسناک ہےکہ امریکا نے ہمیشہ بلا تحقیق الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ امریکا نے میری گرفتاری میں مدد فراہم کرنے کے لیے اتنی خطیر رقم کیوں کر مقرر کی۔ میں زیر زمین روپوش نہیں ہوں بلکہ میری سرگرمیاں سب کے سامنے ہیں۔ امریکیوں کو اتنی خطیر رقم رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی حالانکہ وہ جب بھی چاہیں مجھ سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ میں بھی امریکیوں سے خوف زدہ نہیں، وہ جس معاملے پر چاہیں اور جب چاہیں مجھ سے بات کریں۔ مجھے اس بات پر بھی افسوس ہے کہ بھارت نے میرے بارے میں ہمیشہ غلط معلومات فراہم کیں۔

امریکی وزارت انصاف کی جانب سے گرفتاری کے لیے ایک کروڑ ڈالرز کی رقم مختص کیے جانے سے متعلق سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے جماعت الدعوۃ کے سربراہ نے کہاکہ " اس کی بنیادی وجہ ہماری نیٹو افواج کے لیے سامان رسد لے جانے پر پابندی کے لیے مہم ہے۔ امریکا کو یہ بات گوارا نہیں کہ ہم افغانستان میں امریکی افواج کے لیے نیٹو کے قافلے روکنے کی مہم میں عوام کو بیدار کریں۔

ہم ملک میں امریکا کے خلاف نفرت نہیں پیدا کر رہے بلکہ ہم یہ مہم اس لیے چلا رہے ہیں کیونکہ پاکستان کے راستے افغانستان میں غیر ملکی افواج کے لیے سامان رسد کی فراہمی پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ ہم اس لیے رائے عامہ کو ہموار کر رہے ہیں لیکن امریکا کو یہ برداشت نہیں۔

امریکا کو ہماری پورے ملک میں جاری فلاحی سرگرمیاں برادشت نہیں۔ آج اگر امریکا نے مجھے اپنے مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ امریکا ہماری مہم سے خائف ہے اور اس سے افغانستان میں غیر ملکیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

گرفتاری کے لیے انعامی رقم مقرر کئے جانے پر حافظ سعید نے کہا کہ میری گرفتاری کے لیے انعامی رقم میرے لیے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں البتہ یہ ایک اقدام سپر پاور کی اصل ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ لوگ امریکا کو سپر پاور سمجھتے ہیں لیکن سپر پاور منطق اور استدلال کے بجائے بچگانہ سوچ کی حامل ہے۔ میں امریکیوں سے نہیں ڈرتا۔ میں اس وقت بھی کیمرے کے سامنے ہوں اور روزانہ ہزاروں اور لاکھوں کے اجتماعات میں تقاریر کرتا ہوں۔ میں کسی تورا بورا کی غار میں روپوش نہیں ہوں کہ امریکیوں کو میری تلاش کے لیے بھاری رقم مقرر کرنا پڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں امریکا کے اس فیصلے کو گھٹیا ترین سوچ کا مظہر سمجھتا ہوں۔

خیال رہے کہ امریکا نے حال ہی میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے بانی اور امیر پروفیسر حافظ سعید کی گرفتاری میں معلومات فراہم کرنے والے شخص یا ادارے کو دس ملین ڈالرز کی رقم بطور انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ حافظ سعید ان اور کی جماعت لشکر طیبہ کو نومبر 2008ء میں بھارت کے شہر ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ ان حملوں میں امریکی شہریوں سمیت ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک سال پیشتر پاکستان کی سپریم کورٹ بھی ممبئی حملوں میں حافظ سعید کے ملوث ہونے کے ثبوتوں کو ناکافی قرار دے کر انہیں بری کر چکی ہے۔