ترکی کے ایک سینیئر حکومتی عہدیدار نے اطلاع دی ہے کہ شام کے شورش زدہ شہر ادلب سے 2350 افراد گذشتہ دو دنوں کے دوران سرحد عبور کر کے ترکی داخل ہو گئے ہیں۔ مختصر وقت میں شامی باشندوں کی کسی دوسرے ملک نقل مکانی کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔
ترک عہدیدار نے بتایا کہ شامی پناہ گزین ترکی کے شہر بوک المط کے مقام سے دخل ہوئے۔ اس موقع پر سرحد کے قریب زور دار دھماکوں اور شدید فائرنگ کی اوازیں بھی سنی گئیں۔ فائرنگ کا سلسلہ جمعرات کو سارا دن جاری رہا۔
خیال رہے کہ ادلب سے بڑی تعداد میں شہریوں کی ترکی منتقلی کی اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دوسری جانب شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان شام کے امن فارمولے پر عمل درآمد کرانے دمشق پہنچے ہیں۔
جمعرات کو کوفی عنان کے ترجمان احمد فوزی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ شام میں صورت حال کی جانکاری کے لیے عالمی مبصر مشن نارویجن جنرل رابرٹ موڈ کی سربراہی میں جلد دمشق روانہ ہو گا۔
ناروے کے سرکاری ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کوفی عنان کے ترجمان احمدی فوزی نے بتایا کہ آئندہ دو روز کے بعد دمشق آنے والے عالمی مبصر مشن کی سربراہی ناروے کے سابق ملٹری پراسیکیوٹرجنرل جنرل رابرٹ موڈ کو سونپی گئی ہے۔ خیال رہے کہ رابرٹ موڈ گذشتہ دو سال سے ناروے کے مشرق وسطیٰ میں امن مندوب رہ چکے ہیں۔ گذشتہ فروری میں وہ اپنے اس عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے۔
مسٹر موڈ اگلے دو دنوں میں ڈیڑھ سے دو سو کے لگ بھگ مبصرین کے ہمراہ دمشق جائیں گے اور وہاں کوفی عنان کے وضع کردہ امن فارمولے بالخصوص 10 اپریل سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے اقدامات کا جائزہ لیں گے۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ کوفی عنان نے شام میں سیز فائر پر عمل درآمد کرانے کے لیے سلامتی کونسل سے مبصرین کی فوری تعیناتی کی درخواست کی تھی۔