پاکستان پولیس کے ایک سنئیر افسر نے اپنے ہی ساتھیوں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ان پر خودکش بم حملے میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف بم دھماکے کے الزام میں مقدمہ درج کرادیا گیا ہے۔
سنئیر سپرنٹینڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار احمد خان نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کے علاقے ملیر میں جمعرات کو ہوئے خودکش بم دھماکے میں ایک پولیس افسر اور اس کے دوبھائیوں سمیت چار افراد ملوث ہیں۔
انھوں نے اپنے خلاف خودکش بم حملے میں ملوث پولیس انسپکٹر کا نام بھی ظاہر کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خودکش حملہ کراچی میں تعینات پولیس انسپکٹر اعظم محسود اور اس کے بھائی نے کرایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس حملے کی پہلے سے معلومات تھیں۔ ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان چاروں افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرادیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ''مجھے نامعلوم جنگجوؤں کی جانب سے بھیجے گئے متعدد خطوط موصول ہوئے تھے ۔ان میں سے آخری خط گذشتہ ماہ موصول ہوا تھا جس میں ان جنگجوؤں نے کراچی میں اپنے ساتھیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی صورت میں مجھے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی''۔
ملیر میں گذشتہ روز ایس ایس پی کے قافلے کے نزدیک خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق اور سترہ زخمی ہوگئے تھے۔تاہم ایس ایس پی اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے راؤ انوار احمد خان کے قافلے پر اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔سنئیر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ وہ اس ناکام قاتلانہ حملے کے باوجود شہر میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران خودکش بم دھماکوں میں ہزاروں کی تعداد میں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ان حملوں کی بالعموم کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جنگجو ہی ذمے داری قبول کرتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایک سنئیر پولیس افسر نے اپنے ہی پیٹی بھائیوں پر بم حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان کے ساتھی ان کی جان کے کیوں درپے ہوگئے تھے اور انھیں ان سے کیا خار تھی کہ انھوں نے ان کو جان سے مارنے کے لیے ایک خودکش حملہ آور کا بندوبست کرلیا۔
یادرہے کہ چند سال قبل صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر میں ایک اجتماع میں ہوئے خودکش بم دھماکے کا بھی ایک سابق رکن اسمبلی پر الزام عاید کیا گیا تھا اور یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ ان صاحب نے پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے میں کسی جنگی سردار سے مل کر اس خودکش حملہ آور کا بندوبست کیا تھا جس نے اجتماع میں دھماکا کر کے بے گناہ مسلمانوں کو موت کی ابدی نیند سلا دیا تھا۔