افریقی ملک مالی سے تعلق رکھنے والے طوارق باغیوں نے ملک کے شمال میں واقع علاقے أزواد کی آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔
الطوارق باغیوں کی جماعت قومی تحریک برائے آزادیٔ أزواد (ایم این ایل اے) نے جمعہ کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں اپنے علاقے کی آزادی کا اعلان کیا ہے۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ''آزاد أزواد عوام کی جانب سے انتظامی کمیٹی ،انقلابی کونسل، مشاورتی کونسل، صوبائی دفاتر اور نیشنل لبریشن آرمی کے چیف آف اسٹاف کے ساتھ مشاورت کے بعد ہم نے آج سے أزواد کی آزادی کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے''۔
بیان میں باغیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کی سرحدوں کا احترام کریں اور یہ کہ ایم این ایل اے اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پابندی کرے گی۔باغیوں نے اپنی ریاست میں شامل علاقے میں امن وامان بحال کرنے اور قومی اداروں کی تعمیر کے عزم کا اظہار کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک آزاد أزواد ریاست کے لیے جمہوری آئین کی تشکیل کی راہ ہموار ہو گی۔
تحریک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی تاخیر کے بغیر ریاست أزواد کو تسلیم کرے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک قومی اتھارٹی کے تقرر تک أزواد کا انتظام وانصرام سنبھالے گی۔
واضح رہے کہ قومی تحریک برائے آزادیٔ أزواد (ایم این ایل اے) کا قیام اکتوبر دو ہزار گیارہ میں عمل میں لایا گیا تھا۔اس میں مقامی طوارق باغیوں کے علاوہ ان کے لیبیا میں موجود ہم قبیلہ لوگوں نے شمولیت اختیار کی تھی۔ تحریک نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے لیبیا کے مقتول صدر معمر قذافی کے دفاع میں لیبی باغیوں کے خلاف جنگ لڑی تھی۔
کرنل قذافی کی وفادار فوج کی شکست اور لیبیا کی عبوری قومی کونسل کے تحت ملیشیاؤں کی فتح کے بعد لیبیا سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کسی حکومت نظم سے آزاد صحرائے صحارا کے علاقے میں پہنچا دیا گیا تھا۔اس علاقے میں طوارق قبائل بڑی تعداد میں رہ رہے ہیں۔
مالی کی حکومت نے قومی تحریک برائے آزادیٔ أزواد پر اسلامی مغرب میں القاعدہ کی شاخ سے تعلقات استوار کرنے کا الزام عاید کیا ہے کیونکہ طوارق تحریک مبینہ طور پرایک سخت گیر اسلامی گروپ انصاردین کے ساتھ تعاون کرتی رہی ہے لیکن ایم این ایل اے نے انصار دین سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔
مالی کے شمال مشرقی علاقے میں جمعرات کو مسلح اسلام پسندوں نے الجزائر کے قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور وہ اپنے ساتھ سات سفارت کاروں کو اغوا کرکے لے گئے تھے۔ایم این ایل اے کے ترجمان موسیٰ اطہر نے ایک بیان سفارت کاروں کے اغوا کے واقعے کی مذمت کی تھی۔ان خدشات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ علاقے میں طوائف الملوکی وجہ سے القاعدہ فائدہ اٹھا رہی ہے۔
یاد رہے کہ خانہ بدوش طوارق قبائل انیس سو ساٹھ میں مالی کی فرانس سے آزادی کے بعد اپنے شمالی علاقے کی آزادی کا خواب دیکھتے آئے ہیں لیکن انھیں اپنی آزادی کی تحریک کے لیے کسی دوسرے ملک کی حمایت حاصل نہیں رہی ہے کیونکہ پڑوسی ممالک کو یہ خدشات لاحق تھے کہ ان کے ہاں بھی قبائلی ،نسلی اور علاقائی بنیاد پر آزادی کی تحریکیں جنم لے سکتی ہیں اور مالی دو حصوں میں بٹ سکتا ہے۔ چنانچہ فرانس اور الجزائر نے باغیوں کے اعلان آزادی کو مسترد کر دیا ہے۔