بھارت کی سرحد کے قریب سیاچن گلئیشر میں برفانی تودہ گرنے سے پاکستانی فوج کے ایک کرنل سمیت لگ بھگ 100 جوان دب گئے۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ امداری کارروائیوں میں ہیلی کاپٹرز اور کھوجی کتوں کا استعمال کیا جا رہا ہے
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کی صبح گیاری سیکٹر میں پیش آیا۔ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں دنیا کے اس بلند ترین محاذ جنگ پر پاکستانی اور بھارتی افواج تعینات ہیں۔
سطح سمندر سے لگ بھگ ساڑھے چھ ہزار میڑ سے بھی زائد بلند اس میدان جنگ میں 1984 سے افواج کی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے پاکستان اور بھارت کو بھاری اخراجات اُٹھانا پڑ رہے ہیں جب کہ یہاں شدید موسمی حالات کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں براہ راست لڑائی کے باعث ہونے والے جانی نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔
جوہری صلاحیت کے حامل دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سیاچن گلیشئر سے افواج کی واپسی کے لیے مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن کسی حتمی نتیجے پہ تا حال نہیں پہنچا جا سکا ہے۔