پاکستانی صدر آصف علی زرداری اتوار کو ایک روزہ دورے پر بھارت میں ہیں، جہاں اُنہوں نے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ ظہرانے پر ملاقات کی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری دی۔
اِس دورے کے آغاز پر زرداری نے دارالحکومت نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی رہائش گاہ پر اُن کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد دونوں رہنما صحافیوں کے سامنے آئے۔ اس موقع پر اپنے ایک مختصر بیان میں من موہن سنگھ نے کہا، ’ہم دونوں کی یہ مشترکہ خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر ہو جائیں اور معمول پر آ جائیں‘۔
من موہن سگھ نے مزید کہا: ’’ہمیں کئی ایک بحرانوں کا سامنا ہے اور ہم اِن تمام بحرانوں کے عملی اور حقیقت پسندانہ حل تلاش کرنے کے خواہاں ہیں اور یہ وہ پیغام ہے، جو صدر زرداری اور مَیں دینا چاہتے ہیں۔‘‘
اِس موقع پر زرداری نے بھارتی سربراہِ حکومت کے ساتھ اپنی بات چیت کو سود مند قرار دیا اور کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے:’’ہم نے اُن تمام موضوعات پر بات کی ہے، جن پر ہم بات کر سکتے تھے۔‘‘
من موہن سنگھ نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی سربراہِ مملکت نے اُنہیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے، جسے اُنہوں نے قبول کر لیا ہے اور جس کی تاریخیں ابھی طے کی جائیں گی:’’مَیں (زرداری کے ) اِس دورے کے نتائج سے بہت مطمئن ہوں۔‘‘
بھارت نے 1996ء ہی میں تجارت کے شعبے میں پاکستان کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے دیا تھا جبکہ پاکستان نے گذشتہ برس بھارت کو پسندیدہ ترین تجارتی ساتھی ملک قرار دینے پر اصولی رضامندی ظاہر کر دی تھی۔
سنہ 2005ء کے بعد کسی پاکستانی سربراہِ مملکت کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے، جسے ’نجی نوعیت کا‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایٹمی طاقت کے حامل ان ہمسایہ ملکوں کے رہنماؤں کی ملاقات کو سفارتی لحاظ سے بے حد اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے بھارت 2008ء میں ممبئی میں ہوئے حملوں کی وجہ سے بدستور پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ان حملوں کے پیچھے کارفرما عناصر کو عدالت کے کٹہرے میں لائے۔ بھارت ان حملوں کے لیے کالعدم عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ کو قصور وار قرار دیتا ہے، جسے سخت گیر موقف کے حامل حافظ سعید نے تشکیل دیا تھا۔ حکومت پاکستان کا موقف یہ ہے کہ اُس کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ جن کی بناء پر حافظ سعید کو سزا دی جا سکے۔
ہفتے کے روز لاہور کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا، ’ پروفیسر سعید کے معاملے میں میرا موقف حکومت کے موقف سے مختلف نہیں ہے‘۔
اِس دورے میں صدر زرداری کے بیٹے بلاول بھٹو سمیت خاندان کے 25 دیگر افراد بھی وفد میں شامل ہیں، تاہم پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر بھارت نہیں گئیں۔