منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 17 جمادى الأولى 1433هـ - 09 اپریل 2012م KSA 04:23 - GMT 01:23

عمر سلیمان سمیت 23 امیدوار میدان میں کود پڑے

مصر:صدارتی انتخاب کے لیے امیدواروں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل

اتوار 16 جمادى الأولى 1433هـ - 08 اپریل 2012م
سابق نائب صدر عمر سلیمان کے حامی قاہرہ کے عباسیہ چوک میں جمع ہیں
سابق نائب صدر عمر سلیمان کے حامی قاہرہ کے عباسیہ چوک میں جمع ہیں
قاہرہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

مصر میں ما بعد انقلاب ہونے والے پہلے صدارتی انتخابات کے لیے رجسٹریشن کرانے کی مدت ختم ہوگئی ہے اور الیکٹورل کمیشن کے مطابق تئیس امیدواروں کی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے رجسٹریشن کی گئی ہے۔

مصر کے سابق انٹیلی جنس چیف اور مستعفی صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے آخری دنوں میں نائب صدر کا منصب سنبھالنے والے عمر سلیمان نے اتوار کو مقررہ وقت سے چندے قبل کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جس کے بعد صدارتی دوڑ ایک نیا رُخ اختیار کر گئی ہے۔

ان کے علاوہ عرب لیگ کے سابق سربراہ عمرو موسیٰ، اخوان المسلمون کے لیڈر خیرت الشاطر ،اخوان ہی کے ایک اور سابق رکن عبدالمنعم ابوالفتوح ، سلفی جماعت کے عبداللہ الاشہل اور حسنی مبارک کے آخری وزیراعظم احمد شفیق صدارتی انتخابات کے لیے رجسٹریشن کرانے والے نمایاں امیدوار ہیں۔

چوہتر سالہ عمر سلیمان نے جمعہ کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اپنے خیرخواہوں اور مداحوں کے پُر زور اصرار پر کیا ہے۔انھیں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر دوبجے تک تیس ہزار اہل ووٹروں کے دستخط حاصل کرنا تھے۔ وہ اپنے سیکڑوں پرجوش حامیوں کے جلوس کے ساتھ قاہرہ میں الیکشن کمیٹی کے دفتر میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے پہنچے۔

قبل ازیں اخوان المسلمون نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں بتایا گیا کہ جماعت کے لیڈر محمد مرسی کو خیرت الشاطر کے متبادل امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا جا رہا ہے۔خیرت الشاطر اگر کسی وجہ سے نا اہل قرار پاتے ہیں تو ان کی جگہ محمد مرسی میدان میں موجود ہوں گے۔

مصر کے صدارتی الیکٹورل کمیشن نے دس مارچ سے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی وصول کرنا شروع کیے تھے اور اس دوران ایک ہزار دوسو سے زیادہ شہریوں نے صدارتی دوڑ میں حصہ لینے کے لیے رجسٹریشن کی درخواست دی تھی۔ مصر کے صدارتی انتخابی قانون کے تحت ایک امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ اسے تیس ہزار اہل ووٹروں کی دستخطوں کے ساتھ حمایت حاصل ہو یا پھر تیس ارکان پارلیمان اس کے کاغذات نامزدگی کی تائید کریں۔ اگر کوئی امیدوار ان میں سے کوئی بھی شرط پورا نہ کرے تو اس کے کاغذات مسترد کر دیے جاتے ہیں۔

الیکشن کمیشن اب تیرہ سے پندرہ اپریل کے درمیان صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کا جائزہ لے گا اور اس کے بعد اہل امیدواروں کی فہرست جاری کرے گا۔نا اہل قرار پانے والے امیدوار اڑتالیس گھنٹے میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکیں گے۔واضح رہے کہ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے تئیس اور چوبیس مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

صدارتی انتخابات کے لیے واحد خاتون امیدوار بوثینہ کامل درکار تیس ہزار ووٹروں کے دستخط حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ مصری عوام میں سیاسی شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کرتی رہیں گی۔

مصر میں صدارتی انتخابات کے لیے میدان میں اترنے والے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی نت روز نئی نئی حکمت عملیاں اور کہانیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ امریکا مخالف سلفی صدارتی امیدوار حازم ابو اسماعیل کی والدہ کے پاس امریکی پاسپورٹ ہونے کی اطلاع سامنے آچکی ہے جس کے بعد انھیں نااہلی کے خطرے کا سامنا ہے۔ ملک کی سب سے منظم اور قدیم دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون نے پہلے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا لیکن اب اس سے وابستہ دو امیدوار سامنے آ چکے ہیں۔

2005ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے مقابلے میں آنے اور عالمی شہرت پانے والے ایمن النور کو گذشتہ ہفتے فراڈ کے ایک کیس میں معاف کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ امیدوار بننے کے اہل ہوگئے تھے لیکن ہفتے کے روز انھوں نے کہا کہ وہ اپنی معافی کے چھے سال کے بعد صدارت کے لیے امیدوار بن سکتے ہیں۔