سابق انٹیلی جنس سربراہ کا صدارتی انتخاب لڑنا انقلاب کی توہین ہے: خیرت الشاطر

عمر سلیمان کی کامیابی کی صورت میں دوسرا انقلاب برپا ہو گا

نشر في:

مصر کی سب سے منظم دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے صدارتی امیدوار خیرت الشاطر کا کہنا ہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کے انٹیلی جنس سربراہ عمر سلیمان کا صدارتی انتخاب میں حصہ لینا انقلاب کی توہین ہے اور اگر وہ کامیاب ہو گئے تو ملک میں ایک دوسری عوامی بغاوت برپا ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

اخوان المسلمون کے اکسٹھ سالہ ارب پتی صدارتی امیدوار نے یہ بات برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ اتوار کو ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے عمر سلیمان کی جانب سے آخری وقت میں صدارتی انتخاب کے لیے دوڑ میں شریک ہونے کی مذمت کی۔

خیرت الشاطر نے کہا کہ ''میرے نزدیک صدارتی انتخابات میں عمر سلیمان کا امیدوار بننا انقلاب اور مصری عوام کی توہین ہے۔انھوں نے ایک بڑی غلطی کی ہے۔ وہ صرف جعل سازی کے ذریعے ہی کامیاب ہو سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ایک مرتبہ پھر عوامی انقلاب برپا ہو گا''۔

واضح رہے کہ مصر کے سابق انٹیلی جنس چیف اور مستعفی صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے آخری دنوں میں نائب صدر کا منصب سنبھالنے والے عمر سلیمان نے اتوار کو مقررہ وقت سے چندے قبل کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جس کے بعد صدارتی دوڑ ایک نیا رُخ اختیار کر گئی ہے۔ انھیں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے تک تیس ہزار اہل ووٹروں کے دستخط حاصل کرنا تھے اور وہ یہ انتخابی شرط پورا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔وہ مصر کی طاقتور فوج کے قریب سمجھے جاتے ہیں جو حسنی مبارک کی گذشتہ سال سبکدوشی کے بعد سے ملک کی حکمران ہے۔

تاہم خیرت الشاطر نےاخوان المسلمون کی جانب سے اکتیس مارچ کو صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد ہونے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں ان خدشات کو مسترد کردیا ہے کہ ان کی جماعت اور فوجی جرنیلوں کے درمیان کوئی محاذ آرائی ہو گی۔

محمد خيرت سعد عبد اللطيف الشاطر صدارتی امیدوار بننے کے لیے اخوان کے نائب مرشدعام (ڈپٹی لیڈر) کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے ان خدشات کے بعد صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا کہ فوج کی حمایت یافتہ حکومت اخوان کی بالادستی والی پارلیمان کے ساتھ تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے قومی اسمبلی کو عضو معطل بنائے جانے کے بعد جماعت کے کسی لیڈر کا ملک کے اہم انتظامی عہدے پر فائز ہونا ضروری ہے۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ ''فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کیا جانا چاہیے۔اگر مسلح افواج کی سپریم کونسل کی جانب سے عبوری دور میں ملک کو چلانے کے حوالے سے کوئی ایشو در پیش ہیں تو انھیں اس انداز میں طے کیا جانا چاہیے کہ اس سے فوج کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی کا تاثر نہ ابھرے''۔انھوں نے واضح کیا کہ ہمیں فوج کی مضبوطی اور ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

البتہ انھوں نے خبردار کیا کہ اخوان المسلمون عالمی مالیاتی فنڈ (آئِی ایم ایف) سے تین ارب بیس کروڑ ڈالرز کا ہنگامی قرضہ لینے کے لیے مسلح افواج کی سپریم کونسل کے تحت حکومت کی جانب سے دی گئی درخواست کی حمایت نہیں کرے گی۔ الاّ یہ کہ اس کی شرائط تبدیل کی جائیں یا پھر موجودہ حکومت اقتدار چھوڑ دے اور نئی حکومت آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے کی رقم (فنڈز) کے مصارف کی نگرانی کرے۔