ترکی کے وزیر اعظم طیب رجب ایردوآن نے کہا ہے کہ شامی سرحد کے پار ترک علاقے میں قائم مہاجر کیمپ پر بشار الاسد نواز فوج کی فائرنگ دو ملکوں کے درمیان بین الاقوامی سرحد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اپنے دورہ چین کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری سرحد کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور ہم اس اقدام کے خلاف مناسب کارروائی کریں گے۔
اناطولیہ نیوز ایجنسی نے مسٹر ایردوآن کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ سرحدی خلاف ورزی پر ترکی بھی بین الاقوامی قانون کی روشنی میں اقدام کرنے کا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ترکی اپنی سرحد میں محفوظ راستے اور بفر زونز کو محفوظ بنانے کے لئے کیا اقدام کرے گا؟
ترک اور شام کے درمیان سرحد پر پیر کی شام اس وقت تناؤ میں اضافہ ہو گیا کہ جب شامی سرحدی علاقے سے ترکی کی جانب فائرنگ سے ترک علاقے میں قائم شامی مہاجرین کے کیمپ میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ مسٹر ایردوآن کے مہاجر کیمپوں کے دورے سے قبل پیش آیا۔
ترکی کی تین گورنریوں میں پچیس ہزار سے زائد شامی مہاجرین موجود ہیں، جن کی دیکھ بھال ترکی کے بجٹ پر خاصہ بوجھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تک ترک ان مہاجرین کی دیکھ بھال پر ایک سو پچاس ملین یورو خرچ کر چکا ہے۔ اگر ان مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تو ہم کیا کریں گے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادی سے مہاجرین کی بہبود میں تعاون کی پیش کش کی۔