منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 19 جمادى الأولى 1433هـ - 11 اپریل 2012م KSA 13:45 - GMT 10:45

پانچ مقامات کی نشاندہی، کھدائی کا کام جاری

گياري: جوانوں کو نکالنے کيلئے 450 ميٹر طويل ٹريک بچھا ديا گيا

بدھ 19 جمادى الأولى 1433هـ - 11 اپریل 2012م
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودے تلے دبے ایک سو انتالیس افراد کی تلاش کا کام جاری ہے اور پانچ مقامات کی نشاندہی کے بعد وہاں کھدائی کی جا رہی ہے۔

ادھر امدادی آپریشن میں پاکستان کی مدد کے لیے جرمن اور سوئس ٹیمیں منگل کو پاکستان پہنچ گئی ہیں جبکہ امریکی ماہرین پہلے ہی پاکستان آ چکے ہیں۔ تاہم جائے حادثہ پر موسم کی خرابی کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں اور ان ماہرین کو بھی زمینی راستے سے ہی روانہ کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی آپریشن میں ساڑھے چار سو فوجی اہلکار اور انسٹھ عام شہری حصہ لے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق برفانی تودے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے پانچ جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور امدادی ٹیمیں کھدائی کا کام کر رہی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دو جگہوں پر کھدائی کا کام مشینری کے ذریعے کیا جا رہا ہے جبکہ تین جگہوں پر فوجی اہلکار اور عام شہری کھدائی کر رہے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق امدادی آپریشن میں پانچ ہیلی کاپٹرز بھی شریک ہیں جبکہ اسلام آباد سے ایک سی ون تھرٹی طیارے کی مدد سے قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے اور سٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے ماہرین کو بھی متاثرہ علاقے میں پہنچا دیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق امدادی آپریشن میں مدد کرنے کے لیے سوئٹزر لینڈ سے تین ماہرین پر مشتمل ٹیم جبکہ جرمنی سے آفات سے نمٹنے کے ماہرین پر مشتمل چھ رکنی ٹیم ضروری ساز و سامان سمیت پیر اور منگل کی درمیانی شب پاکستان پہنچیں۔

بیان کے مطابق جرمن اور سوئٹزرلینڈ سے آئی ٹیمیں گیاری سیکٹر کا دورہ کریں گی۔ تاہم موسم خراب ہونے کے باعث یہ ٹیمیں گیاری سیکٹر نہیں جا سکیں۔

واضح رہے کہ پچھلے دو دنوں سے علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے کوئی بھی پرواز سکردو میں نہیں اُتر رہی ہے۔ امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے امریکا کی آٹھ رکنی ٹیم جو اتوار کو پاکستان پہنچی تھی، خراب موسم کی وجہ سے جائے حادثہ پر نہیں پہنچ سکی۔

منگل کو بھی آئی ایس پی آر نے امدادی آپریشن کی تصاویر اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہیں جن میں بھاری مشینری کی مدد سے کھدائی کرتے دکھایا گیا ہے۔ پیر کو فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ چالیس فٹ طویل، تیس فٹ چوڑا اور دس فٹ گہرے حصے کی تلاشی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔