لیبیا کے سابق مقتول صدر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کے حکام کو بتایا ہے کہ ان کے خلاف لیبیا ہی میں مقدمہ چلائے جانے کی توقع ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیف الاسلام قذافی نے گذشتہ ماہ لیبیا میں آئی سی سی کے دوعہدے داروں کو ملاقات میں بتایا تھا کہ ''مجھے توقع ہے کہ میرے خلاف میرے ملک میں ہی مقدمہ چلایا جاسکتا ہے''۔ اس رپورٹ کو عدالت کی رجسٹری کی جانب سے ججوں کو پیش کیا گیا تھا اور اس پر پانچ مارچ کی تاریخ لکھی ہوئی ہے۔
سیف الاسلام قذافی کا یہ بیان لیبی حکومت کی جانب سے طرابلس میں ایک عدالتی کمرے کی تزئین وآرائش کی اطلاع کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جہاں سیف قذافی کے خلاف ممکنہ طور پر مقدمہ چلایا جائے گا اور لیبی حکومت انھیں آئی سی سی کے حوالے کرنے کے بجائے ان کے خلاف اپنے ہی ملک میں مقدمہ چلانے کی تیاری کررہی ہے۔
لیبیا نے منگل کو آئی سی سی سے کہا تھا کہ وہ سیف الاسلام قذافی کو ہیگ بھیجنے کے حوالے سے اپنے حکم کو موخر کردے تاکہ وہ اس معاملے پر اپیل دائر کرسکے جس کے بعد سابق مقتول صدر کے بیٹے کے خلاف طرابلس ہی میں مقدمہ چلایا جاسکے۔
کرنل قذافی کے جانشین بیٹے کو گذشتہ سال گرفتاری کے بعد سے ایک خفیہ جیل میں رکھا جارہا ہے اور لیبیا کی عبوری قومی کونسل پہلے ہی انھیں آئی سی سی کے حوالے کرنے کی مزاحمت کرچکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ملک ہی میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔
لیکن آئی سی سی کی رپورٹ میں سیف قذافی کے خلاف لیبیا میں مقدمہ چلانے کے حوالے سے شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ وہ لیبی پراسیکیوٹر کے مفاد کے لیے یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔وہ گذشتہ سال اپنے والد کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کو کچلنے کے لیے کارروائیوں کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں آئی س سی کو مطلوب ہیں۔
واضح رہے کہ سیف قذافی اور آئی سی سی کے دوعہدے داروں کے درمیان طرابلس سے ایک سو اسی کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع شہر زنتان میں تین مارچ کو ملاقات ہوئی تھی۔مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ رجسٹری کے نمائندوں کی موجودگی میں سیف الاسلام قذافی نے لیبیا کے پراسیکیوشن حکام کی موجودگی میں بعض سوالوں کے جواب نہیں دیے تھے۔
رپورٹ میں سیف الاسلام قذافی کے ساتھ ناروا سلوک کے دعووں کی تصدیق کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ انھوں نے لیبی حکام کے کمرے سے باہر جانے کے بعد صرف پانچ منٹ کی ملاقات میں اپنا ایک ہاتھ دکھایا تھا جس کی دوانگلیاں غائب تھیں اوران کے اوپر کے جبڑے کا ایک دانت بھی نہیں تھا۔
آئی سی سی کے وکیل ہاوئیر ژاں کیٹا نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ سیف قذافی پر جسمانی طور پر حملہ کیا گیا تھا۔انھوں نے لیبی حکام پر الزام عاید کیا کہ ''وہ انھیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھ رہے ہیں۔ان کے دانتوں کا بھی علاج نہیں کرایا جارہا ہے جس کی وجہ سے وہ درد میں مبتلا ہیں''۔