منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 19 جمادى الأولى 1433هـ - 11 اپریل 2012م KSA 21:38 - GMT 18:38

تحریک حریت میں حصہ لینے کی پاداش میں کئی سال پابند سلاسل رہے

الجزائر کے بانی صدر احمد بن بیلا کا طویل علالت کے بعد انتقال

بدھ 19 جمادى الأولى 1433هـ - 11 اپریل 2012م
الجزائر کی آزادی کے ہیرو احمد بن بیلا کا چھیانوے برس کی عمر میں انتقال ہوا ہے۔
الجزائر کی آزادی کے ہیرو احمد بن بیلا کا چھیانوے برس کی عمر میں انتقال ہوا ہے۔
الجزائر۔العربیہ ڈاٹ نیٹ

الجزائر کی آزادی کے ہیرو اور ملک کے بانی صدر احمد بن بیلا (بلة) طویل علالت کے بعد چھیانوے سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

الجزائر پریس ایجنسی کی اطلاع کے مطابق احمد بن بیلا فروری تک اسپتال میں زیرعلاج رہے تھے جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے اور اس کے بعد انھیں اسپتال سے فارغ کردیا گیا تھا۔

احمد بن بیلا الجزائر کی 1962ء میں فرانسیسی استعمار سے آزادی کے بعد سے 1965ء تک صدر رہے تھے۔انھیں ان کے وزیردفاع هواری بوم الدین نے اقتدار سے نکال باہر کیا تھا اور خود ملک کے حکمران بن بیٹھے تھے۔

مرحوم ایک کسان کے بیٹے تھے۔وہ الجزائر کی مراکش کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔انھوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانسیسی استعمار سے آزادی کے لیے جدوجہد میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا اور وہ کئی سال تک تحریک حریت میں حصہ لینے کی پاداش میں فرانسیسی جیلوں میں قید رہے تھے۔

ان کی جدوجہد کے نتیجے میں فرانس نے 1962ء میں الجزائر پر اپنا استعماری قبضہ ختم کردیا تھا اور بن بیلا آزادی کے فوری بعد ملک کے پہلے صدر بن گئے تھے۔ھواری بوم الدین نے تین سال کے بعد ان سے اقتدار چھین لیا تھا اور انھیں جیل میں ڈال دیا تھا۔انھوں نے کئی سال تک الجزائر میں جیل کاٹی تھی اور اس کے بعد انھیں جلا وطن کردیا گیا۔وہ 1999ء میں الجزائر لوٹے تھے۔

بن بیلا نے آخری مرتبہ 2007ء میں افریقی یونین کی تنازعات سے بچاؤ اور ان کے حل کے لیے امن اور سلامتی کونسل کو مشاورت فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ماہرین کے پینل کی صدارت کی تھی۔یہ ایک عجیب حسن اتفاق ہے کہ ان کا انتقال الجزائر کے پچاسویں یوم آزادی کے موقع پر ہوا ہے اور بہت سے الجزائری یہ محسوس کرتے ہیں کہ ملک کے بابائے قوم اور آزادی کے دوسرے لیڈروں کی امنگوں کو پورا نہیں کیا گیا ہےاور ان کے آزادی کے خواب تشنۂ تکمیل رہے ہیں۔