سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز ان دنوں امریکا کے دورہ پر واشگنٹن میں ہیں۔ شہزادہ سلطان کا یہ دورہ امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات اور خلیج عربی اور مشرق وسطی میں سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ہو رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے دورے میں امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کی۔ ملاقات میں انہوں نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جاری مضبوط شراکت کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہ نماؤں نے متعدد دو طرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ امریکا میں سعودی عرب کے سفارتخانے کے مطابق مذاکرات تعمیری رہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور سعودی عرب علاقائی امن، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے باہم تعاون کر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اعلی تعاون امریکی صدرو کے دور میں قائم رہا ہے۔ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے سنہ 2010ء میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔
امریکا نے گزشتہ برس کے سعودی عرب کے لئے ایف - 15 طرز کے جدید طیاروں کے فروخت کے معاہدے کی منظوری دی۔ نیز سعودی عرب نیویڈا اور کیلیفورنیا میں ہونے والی فضائی مشقوں میں بھی شرکت کر رہا ہے۔
شہزادہ سلمان کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب ایران کے نیوکلیئر پروگرام، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات کے آگے بند باندھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی عرب اور امریکا کا تعاون فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔
سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ بین الاقوامی امور کے انتھونی کورڈز مین نے سعودی وزیرخارجہ کے دورہ امریکا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا میں باہم مربوط فوجی کمان رائج ہے جو مضبوط "ڈیٹیرنس" ہے۔ تاہم میزائلوں کا مقابلہ کرنے میں یہ مربوط کمانڈ سسٹم اتنا مفید نہیں ہو سکتا اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی عرب اور خلیج کے باقی ملک ائر ڈیفنس اور میزائل شکن سسٹم خریدیں۔
مسٹر انتھونی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں انتہائی فعال سیکیورٹی فورس موجود ہے، حکومت کے اصلاحاتی پروگراموں کے بعد ملک میں استحکام بڑھ رہا ہے۔ اگر ہم دنیا پر نظر دوڑائیں تو اس میں کوئی شک و شبے کی گنجائش نہیں رہتی کہ اس وقت سعودی عرب سیکیورٹی کے اعتبار سے سب سے زیادہ محفوظ ملک ہے۔
سعودی عرب اور امریکا کا تعاون صرف سیاست اور سیکیورٹی میدان تک محدود نہیں بلکہ امریکا سمجھتا ہے کہ سعودی عرب سے تیل کی عالمی منڈی میں ترسیل امریکی اقتصادیات کے لئے انتہائی اہم ہے۔ سنہ 2035 ء تک یہی صورتحال برقرار رہے گی۔
امریکا اور سعودی عرب کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور کے باہمی مفادات ہیں اور شہزادہ سلمان کا دورہ امریکا انہی مقاصد کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔