منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 20 جمادى الأولى 1433هـ - 12 اپریل 2012م KSA 09:31 - GMT 06:31

سخت گیر سلفی امیدوار کے صدارتی انتخاب میں شرکت کی راہ ہموار

ابو اسماعیل کی والدہ امریکی نہیں بلکہ مصری شہری تھیں: مصری عدالت کا فیصلہ

جمعرات 20 جمادى الأولى 1433هـ - 12 اپریل 2012م
حازم ابو اسماعیل ایڈووکیٹ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

مصر کی ایک عدالت نے قرار دیا ہے کہ سلفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدوار حازم ابو اسماعیل کی والدہ امریکی نہیں بلکہ مصری شہری تھیں۔ اس فیصلے کے بعد ان کی صدارتی انتخاب میں شرکت کے حوالے سے بے یقینی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

پچاس ابو حازم پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں تاہم انہوں نے بعد میں علمی سیاست سلفی جماعت کے پلیٹ فارم سے شروع کی۔

تفصیلات کے مطابق مصر کے الیکشن کمیشن کو گزشتہ ہفتے چند دستاویزات ملی تھیں جن سے یہ تصدیق ہوتی تھی کہ اسماعیل کی والدہ امریکی شہری تھیں۔ یہ امر درست ثابت ہونے پر ابو حازم انتخابی دوڑ سے باہر ہو سکتے تھے۔

ہفتے کے روز سپریم الیکشن کمیٹی کو مصری وزارت خارجہ نے مراسلے کے ذریعے اطلاع دی کہ ابو حازم کی والدہ نوال عبدالعزیز [جو اب اس دنیا میں نہیں] نے 25 اکتوبر 2006 کو امریکی شہریت حاصل کی۔

انتخابی کمیشن کے سربراہ حاتم بجاتو نے جمعرات کو بتایا کہ ہمیں یہ معلومات ملی ہیں کہ ابو اسماعیل کی والدہ نے اپنے انتقال سے پہلے امریکی پاسپورٹ پر مصر کا متعدد بار سفر کیا۔
تاہم قاہرہ کی انتظامی عدالت نے بدھ کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ حکام کے پاس اس بات کا واضح ثبوت نہیں کہ مرحومہ نوال امریکی شہری تھیں۔

مصر کے انتخابات سے متعلق قوانین اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ صدراتی منصب کے لئے انتخاب لڑنے کے خواہاں افراد، ان کے والدین اور بیگمات کے پاس صرف مصری شہریت ہونی چاہئے۔

ابو اسماعیل نے اپنی صدارتی انتخاب کی مہم کا آغاز تیس مارچ کو گاڑیوں کی بڑی ریلی سے کیا، جن کے جلو میں انہیں قاہرہ میں الیکشن کمیشن کے دفتر لایا گیا۔
ان کا مقابلہ اخوان المسملون کے اعتدال پسند خیرت الشاطر اور سابق وزیر خارجہ عمرو موسی سمیت متعدد دیگر امیدواروں کے ساتھ ہو گا۔