یمن کے جنوبی صوبہ ابین میں سرکاری فوج اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے درمیان جمعرات کو مسلسل چوتھے روز جنوبی شہر لودر پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے جس میں مزید بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
القاعدہ اور فوج کے درمیان لڑائی لودر سے پندرہ کلومیٹر دور واقع قصبے امعین تک پھیل گئی ہے۔یمن کے سرکاری حکام اور قبائلی ذرائع کے مطابق جمعرات کو القاعدہ سے وابستہ آٹھ جنگجو لڑائی اور فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔
حکام نے بتایا ہے کہ امعین کے نواح میں مسلح افراد نے ایک گاڑی پر حملہ کیا۔ اس میں صوبہ شیبوۃ سے آنے والے جنگجو سوار تھے۔ مسلح افراد کے حملے کے بعد جنگجوؤں اور مسلح قبائلیوں کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے ایک ایک شخص مارا گیا ہے۔
یمنی فضائیہ نے لودر کے نواح میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری بھی کی ہے اور فوج نے توپخانے سے القاعدہ کے ٹھکانوں پر توپخانے سے گولہ باری کی ہے۔ دوسری جانب ایک قبائلی کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے جنگجو ہمارے شہر پر گولہ باری کر رہے ہیں اور شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
یمنی حکام نے بتایا ہے کہ جنگی طیاروں نے لودر کے نواح میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ انصارالشریعہ کے کنٹرول والے علاقوں میں گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں چھے جنگجو مارے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جنگجوؤں نے سوموار کو یمنی فوج کے ایک ٹینک پر قبضہ کرلیا تھا جس پر فضائی حملے میں اس میں موجود تمام لوگ مارے گئے ہیں۔ لودر کے نواح میں دو اورفضائی حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
لودر اور اس کے نواحی علاقوں میں گذشتہ سوموار سے جاری لڑائی میں ایک سو ستتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ القاعدہ سے وابستہ جنگجو اس شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ یہ شہر تین صوبوں شیبوۃ ،بائدہ اور لہیج کے سنگم پر واقع ہے اور ان تینوں صوبوں میں القاعدہ فعال ہے۔
واضح رہے کہ القاعدہ کے جنگجوؤں نے صوبہ ابین کے شہر لودر میں یمنی فوج کی ایک سو گیارھویں آرمرڈ بریگیڈ کی بیرکوں پر سوموار کو علی الصباح حملہ کردیا تھا جس کے بعد القاعدہ کے جنگجوؤں اور فوجیوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی تھی۔اس لڑائی میں مقامی قبائل فوج کا ساتھ دے رہے ہیں۔
القاعدہ کے جنگجوؤں نے یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں امریکا کے بغیر پائِیلٹ جاسوس طیاروں کے حملوں میں اپنے چوبیس ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد یہ حملہ کیا تھا۔واضح رہے کہ لودر شہر صوبہ ابین کے دارالحکومت زنجبار سے ایک سو پچاس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سے وابستہ ایک جنگجو تنظیم نے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی تحریک کے دوران مئی 2011ء کے آخر میں زنجبار پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اس وقت سے ان کی زنجبار ،لودر اور دوسرے علاقوں میں فوج کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔