عراق میں ایک میکنیک نے گھریلو ساختہ چھوٹے طیارے میں پرواز کی ہے لیکن ہوابازی کے اس شوق نے اس کو مشکلات میں مبتلا کردیا ہے، اس ایجاد کی وجہ سے اسے جیل کی ہوا کھانا پڑگئی ہے کیونکہ اس نے یہ طیارہ کسی منظوری کے بغیر بنایا تھا۔اس کے علاوہ وہ لاکھوں دینار کا مقروض بھی ہوگیا ہے۔
عراقی موجد وسام محمد کاظم نے بارہ لاکھ دینار کی لاگت سے یہ طیارہ تیار کیا تھا اور اب انھیں اپنی ضمانت کے لیے مزید دس لاکھ عراقی دینار کی ضرورت پیش آئی ہے۔ان کا تعلق جنوبی شہر سماوا کے نواح میں واقع قصبے رمیثہ سے ہے۔وہ ایک جنریٹر میکنیک ہیں۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے چھوٹے انجن والا طیارہ لوہے کے پائپوں ، ایلومینیم کی شیٹس ،فیبرک اور لکڑی کے استعمال سے سات ماہ کی مدت میں تیار کیا تھا۔
اس پچیس سالہ نوجوان نے بتایا کہ جب ان کے طیارے نے پہلی مرتبہ اڑان بھری تو پولیس نے انھیں گرفتار کرلیا اور چار گھنٹے تک تھانے میں بٹھائے رکھا۔ان کے اس گھریلو ساختہ طیارے نے صرف دومنٹ تک پرواز کی تھی۔
وسام کاظم کا کہنا ہے کہ پولیس نے عدلیہ کے حکم پر اس طیارے کو ضبط کرلیا ہے کیونکہ یہ کسی سرکاری منظوری کے بغیر بنایا گیا تھا۔رومیثہ کے پولیس سربراہ کرنل ساران الشامری نے وسام کاظم کی کسی اجازت کے بغیر طیارہ تیار کرنے کے الزام میں گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
وسام کاظم نے چار اپریل کو دوسری مرتبہ اپنے طیارے کی اڑان بھری تھی۔تین سال پہلے ان کا طیارہ اڑنے میں ناکام رہا تھا۔پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اب ان کا کہنا ہے کہ وہ طیارہ تیار کرنے اور اس میں فضائی سفر کے خواب سے دستبردار ہوگئے ہیں اور انھوں نے اپنے کام پر لوٹنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے قرضے کی رقم ادا کرسکیں۔تاہم انھوں نے عراقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ موجدین اور ان کی ایجادات کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ملک کی ترقی میں مدد مل سکے۔