منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعہ 21 جمادى الأولى 1433هـ - 13 اپریل 2012م KSA 14:29 - GMT 11:29

ملزمان کے سر منڈوانے یا جامعہ سے نکالنے جیسی سزائیں

مراکش کی جامعات میں "طلباء عدالتیں" لوگوں کی توجہ کا مرکز

جمعہ 21 جمادى الأولى 1433هـ - 13 اپریل 2012م
رباط ۔ حسن الاشرف

افریقی ملک مراکش کی مختلف جامعات اور ان کے زیر انتظام کالجوں میں طلباء، اساتذہ، سیکیورٹی اہلکار یا دیگر ملازمین کی جانب سے درسگاہ کے اصول ومبادی کی خلاف ورزی پر"طلباء عدالتوں" کا نیا رحجان سامنے آیا ہے۔ گو کہ یہ عدالتیں علامتی ہیں تاہم ان کے تحت قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو دی جانی والی معمولی نوعیت کی سزاؤں سے جامعات کا ماحول بہتر ہونے لگا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق مراکش کی یونیورسٹیوں میں طلباء عدالتوں میں درسگاہ کے اپنے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جیوری کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ان میں اساتذہ، طلباء اور دیگر ملازمین کے مابین کوئی استثنیٰ نہیں ہوتا۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کا سر منڈوانے، اسے ادارے سے نکالنے یا سر زنش اور وارننگ جیسی سزائیں دی جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طلباء عدالتوں کے جج بھی خود طلباء ہی ہوتے ہیں۔ جب کسی ملزم یا ملزمان کےخلاف عدالت لگائی جاتی ہے تو جج حضرات اپنے چہرے ڈھانپ کر رکھتے ہیں تاکہ ان کی نشاندہی نہ ہو سکے۔ گواہوں اور عینی شاہدین کی موجودگی میں لگائی جانے والی عدالت میں مدعی اور مدعا علیہ دونوں کو اپنے اپنے حق میں دلائل دینے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ کسی ملزم کو چاہے وہ طالب علم ہی کیوں نہ چوری کے جرم میں عدالت میں لایا جائے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس کا سرمنڈوا دیا جاتا ہے، جرم کی نوعیت کے اعتبارسے اسے ادارے سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔

طلباء عدالتوں کے مثبت اور منفی پہلو

ماہرین کےخیال میں یونیورسٹی کے احاطے میں لگائی جانے والی طلباء کی عدالتوں کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان عدالتوں کے مثبت اورمنفی اثرات پر"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے مراکشی ماہرتعلیم محمد الصدوقی نے کہا کہ "طلباء عدالتیں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جمہوری ماحول پیدا کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ ان عدالتوں کے فیصلوں سے یونیورسٹیوں کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی ہو رہی ہے اور طلباء اور دیگر عملے میں اپنے حقوق وفرائض کے بارے میں آگاہی پیدا ہوئی ہے۔ طلباء اس طرح کی غیر نصابی سرگرمیوں میں دلچسی سے حصہ لیتے ہیں جو ایک طرح کی صحت مند تفریح بھی ہے"۔

طلباء عدالتوں کے منفی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے محمد الصدوقی کا کہنا تھا کہ طلباء کے فیصلے بعض اوقات جامعہ کے اختیارات سے تجاوز پر مبنی ہوتے ہیں، جس سے طلباء اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی ایک نئی رسا کشی بھی شروع ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ میں مختلف نظریات کے حامل طلباء زیرتعلیم ہیں۔ طلباء عدالتیں متعلمین کے نظریات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، جس سے بعض طلباء غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔