فرانسیسی صدر نیکولا سارکوزی نے اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد کی عوام مخالف پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں مطلق العنان حکمران قرار دیا ہے۔ ان کہنا ہے کہ بشار الاسد ایک ڈکٹیٹر ہیں اور ان کے وعدوں پے کوئی اعتبار نہیں ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق ایک بیان میں فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز عالمی امن مندوب کوفی عنان کی مساعی سے طے پانے والی جنگ بندی کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں کیونکہ بشار الاسد اپنے وعدوں پر پورا اترنے والے نہیں۔
سارکوزی کا کہنا ہے کہ "میں سمجھتا ہوں کہ شام میں صدر بشار الاسد کی مطلق العنانیت اور مظالم کا شکار عوام کے تحفظ کے لیے انسانی کوری ڈور کا قیام ناگزیر ہے۔ عالمی برادری کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں"۔
انہوں نے بشار الاسد کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر اسد کے وعدوں پر کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی کوفی عنان کی کوششوں سے جمعرات کے روز سے جاری فائر بندی کی کامیابی کا کوئی ٹھوس امکان ہے۔
میرے خیال میں عالمی مبصرین کی شام میں تعیناتی ضروری ہے تاکہ وہ دنیا کو بشار الاسد اور ان کی حکومت کے عوام پر مظالم کے بارے میں دنیا کو آگاہ کر سکیں۔ باغیوں کا مرکزی شہر حمص صدر اسد کی اہلیہ کا بھی آبائی شہر ہے لیکن سب سے زیادہ ظلم اور تباہی کا شکار ہے۔