منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعہ 21 جمادى الأولى 1433هـ - 13 اپریل 2012م KSA 23:49 - GMT 20:49

لڑکھڑاتی ملکی معیشت پر مزید وزراء کا بوجھ ڈال دیا گیا

پاکستان:5 نئے وفاقی وزراء اور 6 وزرائے مملکت کی حلف برداری

جمعہ 21 جمادى الأولى 1433هـ - 13 اپریل 2012م
اسلام آباد۔امتیازاحمد وریاہ


پاکستان کی حکمران پیپلزپارٹی نے اپنے اور اپنی اتحادی جماعتوں کے بچے کچھے ارکان پارلیمان کو بھی وزارتوں کے مزے سے لطف اندوز کرنے کے لیے وفاقی کابینہ میں توسیع کر دی ہے اور ملک کی لڑکھڑاتی معیشت پر مزید پانچ نئے وزراء اور چھے وزرائے مملکت کا بوجھ ڈال دیا ہے۔

نئے چہروں کی وفاقی کابینہ میں شمولیت کے بعد اب وزراء کی تعداد پینتیس اور وزرائے مملکت کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے۔ ان وزراء کی حلف برداری کی تقریب جمعہ کوایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی۔ صدر آصف علی زرداری نے وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔ اس موقع پر وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔

حلف اٹھانے والے وزراء میں قمرزمان کائرہ، رانا فاروق سعيد، راجا پرويزاشرف، فرزانہ راجا اور نذر محمد گوندل شامل ہیں۔ان کے علاوہ صمصام بخاری، عباس آفريدی، ملک عظمت، ملک عماد، تسنيم قريشی اور راحيلہ بلوچ نے وزرائے مملکت کی حیثیت سے حلف اٹھايا ہے۔ان وزراءکے محکموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق وزیراطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو کوئی اور وزارت سونپی جارہی ہے اور ان کی جگہ قمرزمان کائرہ کو دوبارہ وزیر اطلاعات مقرر کیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ 18 فروری 2008ءکو منعقدہ عام انتخابات کے بعد اسی سال 31 مارچ کو پیپلزپارٹی کی قیادت میں مخلوط اتحاد کی پہلی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھایا تھا۔اس کابینہ نے9 فروری 2011ء کو حکمران اتحاد کے ایک فیصلہ کے تحت اپنے استعفے پیش کر دیے تھے جنھیں بعد میں صدر آصف زرداری نے منظور کرلیا تھا۔

مستعفی کابینہ کے ارکان کی تعداد چوّن تھی اوریہ دنیا کی چند بڑی کابیناٶں میں سے ایک تھی۔اس کے بعد گذشتہ سال فروری ہی میں ملک کو درپیش اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے چھوٹی کابینہ تشکیل دی گئی تھی اوراس میں پہلے مرحلے میں صرف بائیس وزراء شامل کیے گئے تھے لیکن بعد میں مزید تیرہ وزراء کو کابینہ میں شامل کرلیا گیا تھا اور اب ایک سال کے بعد کابینہ میں مزید توسیع کی گئی ہے جس کے بعد دوبارہ وفاقی کابینہ میں شامل وزراء کی تعداد تریپن ہوگئی ہے۔

گذشتہ سال کابینہ کی تحلیل کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کے اس مطالبے کے بعد کیا گیا تھا کہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے وزراء کی تعداد کم کی جائے اور حکومتی اخراجات پر قابو پایا جائے۔لیکن کابینہ میں اب دوبارہ پرانے چہرے شامل کرلیے گئے ہیں۔ان وزراء کو پہلے ان کی ناقص کارکردگی اور مبینہ بدعنوانیوں کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔نئے وزراء میں شامل راجہ پرویز اشرف کے خلاف سپریم کورٹ نے چند روز قبل ہی کرائے کے بجلی گھروں کی تنصیب کے معاہدوں میں بدعنوانیوں پر مقدمہ درج کرنے اور ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

پی پی پی کی حکومت نے اخراجات کم کرنے کے بجائے قومی خزانے پر مزید وزراء کا بوجھ لاد دیا ہے حالانکہ وفاقی وزراء کی تعداد میں کمی آئین میں اٹھارھویں ترمیم کے بعد ایک آئینی تقاضا بھی ہے۔اس ترمیم میں یہ کہا گیا ہے کہ کابینہ کے ارکان کی تعداد پارلیمان کے کل ارکان کی تعداد کا گیارہ فی صد ہونی چاہیے اور اس سے بڑی کابینہ نہیں بنائی جائے گی۔اس وقت پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینٹ کے کل ارکان کی تعداد چارسو بیالیس ہے۔اس تناسب سے کابینہ کا حجم انچاس وزراء سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر اب کابینہ کے ارکان کی تعداد تریپن ہوگئی ہے۔