منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 22 جمادى الأولى 1433هـ - 14 اپریل 2012م KSA 00:32 - GMT 21:32

لشکر طیبہ کے لیے بھرتی اور چندہ جمع کرنے پر قصوروار قرار

امریکا:جہادی تنظیم کی معاونت پر پاکستانی کو بارہ سال قید

ہفتہ 22 جمادى الأولى 1433هـ - 14 اپریل 2012م
جبیر احمد کو لشکر طیبہ کے لیے بندے بھرتی کرنےکے الزام میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔فائل
جبیر احمد کو لشکر طیبہ کے لیے بندے بھرتی کرنےکے الزام میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔فائل
واشنگٹن۔العربیہ ڈاٹ نیٹ


امریکا میں ایک عدالت نے ایک پاکستانی شہری کو کالعدم جہادی تنظیم لشکرطیبہ کی حمایت کے لیے مواد مہیا کرنے اور بھرتی کی تبلیغ کے الزام میں قصوروار قراردے کر بارہ سال قید کی سزا سنائی ہے اور اس کے بعد رہائی پر انھیں مزید پانچ سال حکام کی نگرانی میں رکھا جائے گا۔

امریکی محکمہ انصاف نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ چوبیس سالہ جبیر احمد کو لشکر طیبہ کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کی تبلیغ پر مجرم ٹھہرایا گیا ہے اور انھیں بارہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں۔یہ پاکستانی نوجوان ریاست ورجینیا کے شہر ووڈ برج میں رہ رہا تھا۔

امریکی وکیل نیل میکبرائیڈ نے کہا کہ ''ہم نے دہشت گردوں کی جانب سے یوٹیوب اور دوسری سوشل نیٹ ورکنگ سروسز کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ دیکھا ہے اور وہ دنیا بھر میں لوگوں تک رسائی کے لیے اس سوشل میڈیا کو استعمال کررہے ہیں''۔

اس وکیل کے بہ قول جبیر احمد لشکر طیبہ کے متشدد نصب العین کے حامی تھے اور اس کو انھوں نے آن لائن پروپیگنڈا کے ذریعے فروغ دیا،اس تنظیم کے لیے دوسروں کو بھرتی کیا اور چندہ جمع کیا تھا۔اس تنظیم پر نومبر 2008ء میں بھارت کے جنوبی شہر ممبئی میں ہوئے حملوں کا الزام عاید کیا گیا تھا جن کے نتیجے میں ایک سو ساٹھ سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

لیکن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف برسرپیکار لشکر طیبہ نے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی اور آج تک کسی عدالت میں اس کا ممبئی حملوں سے براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوسکا ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے پاکستان میں جڑیں رکھنے والی اس تنظیم کو دہشت گرد قراردے رکھا ہے اورپاکستان نے بھی لشکر طیبہ کو کالعدم قراردے کر اس پر پابندی عاید کررکھی ہے۔