یمن میں گذشتہ ایک سال سے جاری فسادات کے دوران جہاں ہر شعبہ ہائے زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے وہیں بجلی جیسی بنیادی ضرورت کا بھی سنگین بحران ہے۔ بحران کی وجہ بجلی کی پیداواری قلت نہیں بلکہ وہ تخریب کار ہیں جو ایک منظم منصوبے کے تحت بجلی کی سپلائی منقطع کرتے رہتے ہیں۔ بجلی کے ان مبینہ تخریب کاروں کےخلاف ملک بھر کے علماء بھی یک زبان ہوگئے ہیں اور انہوں نے "فسادیوں"کے خلاف مذہبی جنگ کا اعلان کردیا ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کے ستائے عوام کے بعد علماء بھی میدان میں اترآئے ہیں۔ کل جمعہ کے روز ملک کی بیشتر مساجد میں بجلی کا نظام درہم برہم کرنے والوں کےخلاف نہ صرف تقاریر کی گئیں بلکہ اس میں ملوث عناصر کو"خدائی سزاؤں" کی بھی وعید سنائی گئی۔ علماء نے جرائم پیشہ افراد کی تباہی اور بربادی کے لیے گڑ گڑا کر دعائیں بھی کیں۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ جمعہ کےخطبے میں اچانک ملک بھرکے علماء کا بجلی کے تخریب کاروں کےخلاف آواز اٹھانے کے پس پردہ محکمہ اوقاف کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ گذشتہ ہفتے وزارت اوقاف کی جانب سے ملک بھر کی مساجد کے آئمہ اور خطباء حضرات کو ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ جمعہ کے خطبہ کو بجلی کے تخریب کار عناصر کے لیے خاص کریں اور ایسے افراد کی تباہی اور بربادی کے لیے دعائیں کریں۔ بعض لوگ علماء کے اس اقدام کو "سیاسی " قرار دے رہے ہیں۔
مساجد کے آئمہ نے جمعہ کی نمازوں سے قبل اپنی تقاریر میں تخریب کاروں کےخلاف سخت ترین الفاظ استعمال کیے اور انہیں" اعداء اسلام اور اُمت مسلمہ کے دشمن" جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا۔
صنعاء کی جامع مسجد سوق معیاد کے خطیب نے نماز جمعہ کے بعد تخریب کاروں کےخلاف کچھ اس طرح دعا کی " یا اللہ عوام الناس کو بجلی کی سہولت سے محروم کرنے والوں کے ہاتھ کاٹ دے۔ یا اللہ تو ان پرقدرت رکھتا ہے، یہ تجھے عاجز نہیں کر سکتے، تو انہیں اپنی گرفت میں لے لے۔ تو قادر اور عادل ہے ان فسادیوں پراپنا غضب نازل فرما۔ ان کی چالوں کو ان پر لوٹا دے اوران کی تمام سازشوں اور تدبیروں کو ناکام بنا۔۔۔۔ "۔
اسی ضمن میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے صنعاء میں جامع مسجد الخیر کے خطیب الشیخ محمد عبداللہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ علماء کو وزارت اوقاف کی جانب سے بجلی کے تخریب کاروں کے خلاف بات کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا اور نہ ہی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ چونکہ بجلی کا بحران اس حد تک شدت اختیار کر گیا ہے جو عوام کے صبر اور برداشت سے باہر ہے۔ ایسے میں علماء بھی اس بحران سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ کیونکہ ہم بھی عوام ہی میں شامل ہیں"۔
خیال رہے کہ یمن کے جنوبی علاقے مآرب سے صنعاء اور دیگر شہروں کو بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران تخریب کاروں نے کم سے کم 90 مرتبہ بجلی کاٹی، یعنی ہر چوتھے روز صنعاء سمیت کئی شہروں کو اندھیرے میں ڈبو دیا گیا۔ تخریب کاروں کی جانب سے صرف بجلی کی سپلائی لائنیں ہی منقطع نہیں کی جاتیں بلکہ خوراک کے ڈپوؤں پر بھی حملے کیے جاتے ہیں۔ تخریبی کارروائیوں کے باعث عدن، ذمار، الحدیدہ اور ابین جیسے شہر بھی بری طرح متاثر رہے۔