شام میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جمعرات کے روز سے طے پائی فائر بندی کے باوجود سرکاری فوج کی جانب سے باغیوں کے مرکزی شہر حمص پر گولہ باری جاری ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم "دفاع برائے انسانی حقوق" اور دیگر مندوبین کے مطابق سرکاری فوج نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب حمص کے مختلف علاقوں پر گولہ باری شروع کی تھی جو آج ہفتے کے روز بھی بدستور جاری ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق حمص میں انسانی حقوق کے ایک مندوب کرم ابو ربیع نے بتایا کہ ''جورہ الشیاح'' اور ''قرابیص'' کے مقامات پر اسد نواز فوج نے گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایک گھنٹے کے دوران راکٹ حملوں کی آٹھ زور دار آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ امن مندوب کوفی عنان کی کوششوں سے شام میں فریقین بارہ اپریل بروز جمعرات کو ایک ابتدائی نوعیت کے سیز فائر معاہدے پر متفق ہو گئے تھے، تاہم معاہدے کے باوجود سرکاری فوج کی جانب سے باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔