مصر کے ہائر الیکشن کمیشن نے سابق انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان، اخوان المسلمون کے امیدوار خیرت الشاطر اور سلفی امیدوار حازم ابو اسماعیل سمیت صدارتی دوڑ میں شامل دس امیدواروں کے کاغذات نامزدگی خارج کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ تمام امیدوار صدارتی انتخابات کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے چیئرمین ایڈووکیٹ فاروق سلطان نے ہفتے کے روز میڈیا کو جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ کمیشن نے عوامی جمہوریہ مصر کے صدر کے انتخاب کے سلسلے میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
اس دوران بعض صدارتی امیدواروں کی جانب سے اپنے مخالف امیدواروں پر عائد اعتراضات کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد کمیشن اس نتیجے تک پہنچا ہے کہ انتخاب لڑنے والے دس امیدوار الیکشن کمیشن اور ریاست کے دستور کی متعین کردہ تمام شرائط پر پورا نہیں اتر رہے۔ کچھ امیدواروں کے کاغذات میں سقم موجود ہے جبکہ بعض عوامی حمایت کے لیے وضع کردہ شرط پوری نہیں کر سکے"۔
ایڈووکیٹ فاروق سلطان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ حاتم بجاتو کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو فہرست سے نکالے گئے صدارتی امیدواروں کے اعتراضات اور شکایات کا جائزہ لے گی۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق کئی بڑے بڑے صدارتی امیدواروں کے انتخابی دنگل سے باہر ہونے کے الگ الگ اسباب اور وجوہات ہیں۔ سابق نائب صدر عمر سلیمان نے بعض اضلاع سے ایک ہزار تائید کنندگان کی حمایت ظاہر نہیں کی حالانکہ کسی بھی صدارتی امیدوارکے لیے ناگزیر ہے کہ وہ مجموعی طور پر پندرہ گورنریوں سے ہر گورنری کے ضلع ایک ہزار افراد کی حمایت ظاہر کرے۔ عمر سلیمان کو بعض اضلاع سے ایک ہزار سے کم شہریوں کی حمایت حاصل ہے، جس کے باعث وہ آئینی طور پر صدارتی دوڑ میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہیں۔
اخوان المسلمون کے حمایت یافتہ امیدوار خیرت الشاطر اور ایمن النور کے اخراج کی وجہ ان کے خلاف دائر سابق ادوار کے مقدمات بتائے گئے ہیں۔ مقدمات کے ہوتے ہوئے ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ عدلیہ سے اس کی ضمانت حاصل کرتے جو نہیں کی گئی۔ سلفی امیدوار حازم صلاح ابو اسماعیل کے صدارتی دوڑ سے باہر ہونے کی وجہ ان کی والدہ کا امریکی شہری ہونے کا تنازع ہے۔ وہ اپنے کاغذات نامزدگی میں یہ ثابت نہیں کر سکے ہیں کہ ان کی والدہ مصری ہیں یا ان کے پاس امریکی شہریت بھی ہے۔
دو دیگر امیدواروں احمد محمد عوض اور مرتضی منصور کو ایک ہی پارٹی کے دو صدارتی امیدوار ہونے کی بنا پرخارج کیا گیا جبکہ حسام خیرت کے اخراج کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس کا تعلق ایک متنازعہ جماعت سے ہے اور یہ جماعت آئینی طور پر صدارتی انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قرار دی جا چکی ہے۔ نیز انہوں نے کسی شخص کو اپنا وکیل مقرر نہیں کیا ہے۔ ممدوح قطب کو اس لیے صدارتی انتخابات کی دوڑ سے باہر کیا گیا کیونکہ پارلیمنٹ میں ان کی جماعت کا کوئی ایک امیدوار بھی نہیں۔
مصری الیکشن کمیشن کی جانب سے کئی اہم امیدواروں کے صدارتی انتخاب کے میدان سے اخراج پر کمیشن کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ سلفی جماعت "النور" کے حمایت یافتہ امیدوار حازم ابو اسماعیل نے اپنے اخراج کی اطلاع پر فوری ردعمل میں الیکشن کمیشن پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے سمیت کئی صدارتی امیدواروں کو انتخابی دوڑ سے باہر کرنا ایک بڑے "بحران" کا باعث بنے گا۔
مصر کے ایک نجی ٹی وی "المحکمہ" کے ایک ٹاک شو میں ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے حازم اسماعیل نے کہا کہ "الیکشن کمیشن صدارتی امیدواروں کو نااہل قراردینے کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا ہے وہ بذات خود غیر قانونی ہے۔ ہمارے پاس الیکشن کمیشن کے اعتراضات کے جواب میں عدالتی فیصلہ موجود ہے اور جو عدالتی فیصلے سے ٹکرائے گا وہ ریاست سے ٹکرائے گا۔ الیکشن کمیشن کو اپنے طور پر صدارتی امیدواروں کو نا اہل قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے"۔
ایڈووکیٹ حازم اسماعیل کا کہنا تھا کہ "ابھی تک مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ الیکنش کمیشن مجھے صدارتی دوڑ سے باہر کر دے گا لیکن میں کمیشن کو بھی خبردار کرتا ہوں کہ وہ آگ سے کھیلنا اور اداروں کو ملیا میٹ کرنا چھوڑ دے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے عدالت کے سامنے اپنی والدہ کے امریکی شہری نہ ہونے کے تمام ثبوت پیش کر دیے ہیں۔ عدالت نے میرے ثبوت تسلیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ میری والدہ یا میرا امریکا سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ میرے پاس اپنی بریت کا سب سے بڑا ثبوت ہے اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ میں نے کچھ بھی ریاست سے پوشیدہ نہیں رکھا ہے۔