منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: اتوار 23 جمادى الأولى 1433هـ - 15 اپریل 2012م KSA 08:20 - GMT 05:20

ھگلیگ پر جنوبی سوڈان کا قبضہ غیر قانونی ہے: افریقی یونین

شمالی سوڈان کے فضائی حملے میں جنوبی سوڈان میں پانچ افراد ہلاک

اتوار 23 جمادى الأولى 1433هـ - 15 اپریل 2012م
العربیہ ڈاٹ نیٹ، خرطوم ۔ عبدالمنعم الخضر

جنوبی سوڈان کی ریاست "الوحدۃ" کے حکام کا کہنا ہے کہ شمالی سوڈان کے جنگی ہوائی جہازوں کی ریاست کے مرکزی شہر"بنیتو" میں ہفتے کے روز کی گئی گولہ باری میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور چھے زخمی ہو گئے ہیں۔

جنوب کے زیر انتظام ریاست کی مقامی حکومت کے ترجمان جدعون قطفان نے میڈیا کو بتایا کہ خرطوم کے لڑاکا طیاروں نے "بنیتو" شہر میں ایک پل کے قریب کاروں کی ایک مارکیٹ میں راکٹ داغے۔ ایسے لگتا ہے کہ شمالی سوڈان کے طیاروں نے دانستہ طور پر اس جگہ کو نشانہ بنایا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جس پل کےقریب بمباری کی گئی ہے وہ شمالی سوڈان اور "بنیتو" شہر کو ملانے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ دوسری جانب خرطوم حکام نے "بنیتو" میں کسی قسم کی بمباری کی تصدیق نہیں کی۔

درایں اثناء جنوبی سوڈان کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی سوڈان کی جانب سے تیل کے ذخائر سے مالا مال شہر ھگلیگ پر قبضے کے لیے کیا گیا حملہ ناکام بنا دیا ہے۔ فوج کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افریقی یونین ھگلیگ میں تیل کے کنوؤں پر جنوبی سوڈان کے قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اقدام قرار دے چکی ہے۔ افریقی یونین نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سرحدی تنازعات اور تیل کے ذخائر کی تقسیم کے بارے میں پائے جانے والے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں۔

جمعہ کی شام شمالی سوڈان کی فوج نے اطلاع دی کہ ان کے مسلح دستے جنوبی سوڈان کے زیر قبضہ علاقے ھگلیگ کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں جبکہ ھگلیگ پر گذشتہ منگل کے بعد سے قابض جنوبی سوڈان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنی فوجیں وہاں سے واپس نہیں بلائے گا جب تک وہاں اقوام متحدہ اپنی عالمی فوج تعینات نہیں کرے گا۔

جنوبی سوڈان نے گذشتہ منگل کو سوڈان کے سرحدی علاقے میں اس کے ہیگلیگ آئیل فیلڈ پر قبضہ کر لیا تھا۔ تب سے اس کی سوڈان اور دوسرے ممالک کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے اور سوڈان نے دھمکی دی ہے کہ اگر جنوبی سوڈان نے قبضہ ختم نہ کیا تو وہ اس کے خلاف کارروائی کرے گا۔

ہیگلیگ پر جنوبی سوڈان بھی دعوے دار ہے، اس کو سوڈان کی معیشت میں بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہاں سے اس کی تیل کی کل پیداوار (ایک لاکھ پندرہ ہزار بیرل یومیہ) میں سے نصف مقدار تیل نکالا جاتا ہے۔ سوڈان کے ایک عہدے دار نے جمعرات کو بتایا کہ وہاں جاری لڑائی کی وجہ سے تیل کی پیدوار رک چکی ہے۔

جنوبی سوڈان نے صدر سلفا کیر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ''اگر آپ سوڈانی صدر عمر البشیر کی وفادار فورسز کو پیچھے ہٹانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کرتے تو پھر ہم اپنے موقف پر نظرثانی کے لیے تیار ہیں اور ایبی کی جانب پیش قدمی کریں گے''۔

سوڈانی صدر عمر حسن البشیر اور ان کے جنوبی سوڈانی ہم منصب سلفاکیر نے ایک دوسرے پر جنگی ماحول پیدا کرنے کا الزام عاید کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون اس سے پہلے شمالی اور جنوبی سوڈان پر زور دے چکے ہیں کہ وہ لڑائی ختم کر دیں اور سرحدوں پر سکیورٹی سے متعلق معاہدوں کا احترام کریں۔

جنوبی اور شمالی سوڈان کے درمیان تیل کی آمدن میں حصے داری اور راہداری فیس کے علاوہ سرحدوں کے تعین پر اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ اب انھوں نے باقاعدہ ایک تنازعے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ جنوبی سوڈان کی بیرونی سرحدیں سمندر سے نہیں ملتی ہیں اور وہ اپنی تیل کی پیداوار کو برآمد کرنے کے لیے شمالی سوڈان میں بچھی پائپ لائنوں کے ذریعے بندرگاہ تک پہنچانے پر مجبور ہے۔