سعودی عرب میں شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی کے زیر انتظام انجیئنرنگ کالج میں پہلی مرتبہ طالبات کو بھی الیکٹریکل اور انڈسٹریل انجینئرنگ کی تعلیم کی سہولت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ میٹرک پاس خواہش مند طالبات کو الیکٹریکل انجینئرنگ اور انڈسٹریل انجینئرنگ میں چار سالہ ڈپلومہ کرایا جائے گا۔ چار سالہ اس خصوصی کورس کے بعد ادارے سے فارغ التحصیل طالبات اپنے متعلقہ شعبوں میں پندرہ ہزار ریال ماہانہ تک کما سکیں گی۔
مؤقر عربی روزنامہ" الوطن" کی رپورٹ کے مطابق جامعہ عبدالعزیز میں انجیئنرنگ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالحمید الجنیدی نے بتایا کہ "یونیورسٹی طالبات کے لیے بھی انجینئرنگ کے میدان میں تعلیم کے دروازے کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ طالبات کے لیے الیکٹریکل اور انڈسٹریل انجینئرنگ کے شعبوں میں آئندہ تعلیمی سال سے داخلے شروع ہوں گے، جس کے بعد شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی ملک کی پہلی سرکاری درسگاہ ہو گی جہاں انجینئرنگ کے میدان میں مرد طلباء کی اجارہ داری کا خاتمہ ہو گا۔
ڈاکٹر جنیدی کا کہنا تھا کہ پہلے بیج میں پچاس سے ساٹھ طالبات کو انجینئرنگ کورس کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ دوسرے سال ان کی تعداد دوگنا کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ میں طالبات کو انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے کام شروع کرنے سے قبل ملک کی مختلف فرموں سے بھی بات چیت کی گئی ہے تاکہ فارغ التحصیل طالبات کو باعزت روزگار بھی فراہم کیا جا سکے۔ اس طرح خواتین الیکٹریکل اور صنعتی شعبے کی ماہرین ماہانہ پندرہ ہزار ریال تک تنخواہ پر ملازمت حاصل کر سکیں گی۔