منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: اتوار 23 جمادى الأولى 1433هـ - 15 اپریل 2012م KSA 15:35 - GMT 12:35

جيل سے فرار 100 قيدی واپس آ گئے

سینٹرل جیل بنوں پر طالبان کا حملہ، مشرف پر حملے کے ملزم سمیت سیکڑوں فرار

اتوار 23 جمادى الأولى 1433هـ - 15 اپریل 2012م

پاکستان کی شورش زدہ شمال مغربی سرحدی پٹی کے قریب واقع شہر بنوں کی سینٹرل جیل پر آدھی رات کے وقت نامعلوم افراد کے حملے میں 400 کے قریب قیدیوں کے فرار ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

بنوں جیل پر حملے کے دوران حملہ آوروں نے دستی بموں کے علاوہ راکٹ کا بھی استعمال کیا۔ اس کی وجہ سے جیل کی بیرونی دیوار میں کئی مقامات پر شگاف پیدا ہو گئے۔ حملے کے دوران 384 قیدی فرار ہو گئے۔ ان قیدیوں میں 150 وہ قیدی ہیں، جن کا تعلق کالعدم طالبان سے ہے۔ صوبے خیبر پختونخوا کے اعلیٰ پولیس افسر شفیق خان نے اس حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ جیل پر فائرنگ اور بم حملے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں میں کم از کم بیس قیدی انتہائی خطرناک طالبان انتہا پسند تھے، جو پ رتشدد واقعات اور جرائم میں ملوث تھے۔ فرار ہونے والوں میں ایک عدنان رشید نامی قیدی بھی شامل ہے جو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے قتل کے وقوعے میں شامل تھا۔ عدنان رشید پاکستان فضائیہ کا ملازم تھا اور اسے موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ کچھ عرصے کے دوران لکی مروت اور کو ہاٹ نامی شہروں سے بھی کئی قیدیوں کو بنوں کی جیل منتقل کیا گیا تھا۔

طالبان کے ایک ترجمان عاصم اللہ محسود نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان کے مطابق ان کے جنگی فائٹرز نے جیل پر حملہ کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق حملے میں کل بارہ سو قیدیوں کو رہائی دلوائی گئی ہے۔ جیل حکام نے طالبان کے دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ جیل حکام کے مطابق ہفتے کی شام کو قیدیوں کی مکمل گنتی کے مطابق ان کی تعداد 944 تھی۔

مفرور قیدییوں کی واپسی

انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختون خوا محمد اکبر خان ہوتی نے کہا ہے کہ بنوں جیل پر حملہ کرنے والوں کا اصل ہدف جنرل پرویز مشرف پر حملے میں ملوث ملزم عدنان رشید تھا جسے وہ چھڑا لے گئے۔ بنوں جیل کے دورے کے بعد میڈیا سے گفت گو میں آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ حملہ آور جیل سے پھانسی کی سزا پانے والے اکیس افراد سمیت چار سو قیدیوں کو ساتھ لے گئے تھے جن میں سے سو قیدی واپس آ گئے ہیں۔

اکبر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ جیل کے سیکورٹی حکام گھبرا کر فائر نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پولیس تاخیر سے پہنچی جونہی اطلاع ملی ناکے لگا دئیے گئے تاان کا کہنا تھا کہ پولیس جیل کے باہر سیکورٹی کی ذمے دار ہے اور انہوں نے بجوں جیل کے باہر سیکورٹی بڑھانے کی ہدایت کر دی ہے۔

مسلح افراد کے حملے میں بے شمار قیدیوں کے زخمی ہونے کا بھی بتایا گیا ہے۔ ساتھ ہی جیل میں متعین پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ امدادی عمل جاری ہے۔