سعودی عرب کے تعلیمی اداروں میں "ایموز" EMOs کی تقلید کرنے والے طلبہ او طالبات کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور وزارت تربیت اور جنرل ایجوکیشن کے عہدیداروں کے نام سرکاری مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ایمو کلچر کے سدباب کے لئے اقدام کیا جانا چاہئے۔ ایمو خواتین، مردوں کی طرح چال ڈھال اور لباس اپناتی ہیں جبکہ مرد، خواتین سے مشابہہ رہن سہن اختیار کرنے لگتی ہیں۔
ایمو کلچر کے تفصیلی مطالعے اور اس کے نیجے میں پیدا ہونے والے منفی رحجانات کا جائزہ لینے کے بعد سرکاری حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ ایمو کلچر کے پیروکار مخصوص لباس، موسیقی، طور طریقوں اور ہیئر اسٹائل کی وجہ سے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں بھی حالیہ چند دنوں سے اس کلچر کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔ اس کلچر کی بیخ کنی کے لئے تعلیمی اداروں میں اس کے پیروکاروں کے خلاف اقدام کا فیصلہ کیا گیا۔
سرکاری حکم نامے میں سعودی عرب کی طاقتور مذہبی پولیس کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بھی پبلک مقامات پر ایمو کلچر کے فروغ کو روکنے کے لئے مناسب اقدام کرے کیونکہ یہ کلچر سعودی عرب کے رواج کے مطابق نہیں ہے۔