افریقی ملک مراکش کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سنہ 2000ء کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل پہنچا ہے۔ وفد میں شاہ مراکش کے ایک قانونی مشیر بھی شامل ہیں۔ مراکش سے یہ وفد اسرائیل میں یہودیوں کی مذہبی تقریبات میں شرکت کے لیے یہاں پہنچا ہے۔
اسرائیل کے کثیر الاشاعت اخبار"یدیعوت احرونوت" کے مطابق بارہ سال پیشتر فلسطین میں شروع ہونے والی دوسری تحریک انتفاضہ کے بعد دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات منعقطع ہو گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق مراکشی یہودیوں کا وفد جمعرات کو تل ابیب پہنچا۔ اس میں شاہ مراکش شاہ محمد ششم کے ایک قانونی مشیر سمیت چار دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ بارہ سال کے بعد مراکشی یہودی اپنے مذہبی دن "عید میمونہ" کی تقریبات میں شرکت کے لیے اسرائیل پہنچے ہیں۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ مراکشی یہودیوں کی اسرائیل آمد میں شاہ مراکش محمد ششم کی براہ راست اجازت شامل ہے۔ شیڈول کے مطابق مہمان یہودی وفد آج شام تل ابیب میں اسرائیلی نائب وزیرخارجہ ڈانی ایالون سے ملاقات کرے گا۔ تاہم اسے کسی سرکاری وفد کی حیثیت حاصل نہیں بلکہ یہ ایک نجی نوعیت کا دورہ ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین میں سنہ 2000 ء کو شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے دوران اسرائیلی جبر و تشدد پر احتجاجاً مراکش نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے۔