منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 24 جمادى الأولى 1433هـ - 16 اپریل 2012م KSA 09:19 - GMT 06:19

شمالی سوڈان کی جانب سے الزام کی تردید

ہیگلگ کا کنواں ملبے کا ڈھیر بن گیا: جنوبی سوڈان

اتوار 23 جمادى الأولى 1433هـ - 15 اپریل 2012م
خرطوم ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

جنوبی سوڈان نے سوڈان پر ہیگلگ میں واقع تیل کے متنازعہ کنویں پر بمباری کا الزام عاید کیا ہے جس کے نتیجے میں وہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے جبکہ سوڈان نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہاں سے جنوبی سوڈان کے فوجی واپس بلائے جانے تک وہ جوبا سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

جنوبی سوڈان کے وزیر اطلاعات برنابا ماریل بنجامین نے اتوار کو جوبا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوڈانی فضائیہ کی ہیگلگ کے علاقے میں بمباری سے تیل کے کنویں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انھوں نے کہا کہ کنویں کی مرکزی پراسیسنگ تنصیب اور ٹینکوں پر بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں وہ ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

دوسری جانب سوڈان نے اس الزام کی تردید کی ہے اور سوڈان کے وزیر مملکت برائے اطلاعات نے میڈیا ذرائع سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان نے نہ تو تیل کے کنویں کو تباہ کیا ہے اور نہ وہ ایسا کرے گا۔

سوڈان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سونا نے صدر عمر حسن البشیر کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ''سوڈان ہیگلگ کے علاقے سے جنوبی سوڈان کی فوجوں کی واپسی تک اس کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا''۔

افریقی یونین اور بعض دوسرے ممالک نے سوڈان کے تیل کے ایک کنویں پر جنوبی سوڈان کی فوج کے قبضے کو غیر قانونی قراردے کر اس کی مذمت کی ہے اور دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تباہ کن جنگ سے بچنے کے لیے اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ افریقی یونین شمالی اور جنوبی سوڈان کے درمیان تیل کی راہداری کے تنازعہ کو طے کرنے کے لیے بات چیت میں ثالث کا کردار ادا کررہی ہے لیکن جنوبی سوڈان کی فوج کے منگل کو ہیگلگ پر قبضے کے بعد بدھ کو سوڈان نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

جنوبی سوڈان اور شمالی سوڈان کے درمیان تیل کی آمدن میں حصے داری اور راہداری کی فیس کے تعین پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور اب انھوں نے باقاعدہ ایک تنازعے کی شکل اختیار کر لی۔

جنوبی سوڈان نے جنوری میں سوڈان کے ساتھ راہداری فیس کے تنازعے پر اپنی تیل کی پیداوار مختصر وقت کے لیے بند کر دی تھی اور کہا تھا کہ وہ متنازعہ علاقے ایبی اور سرحدوں کے تعین سے متعلق حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد ہی کنووں سے تیل نکالنے کا کام بحال کرے گا۔ جنوبی سوڈان ساڑھے تین لاکھ بیرل یومیہ تیل نکالتا ہے۔

سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان تیل کی دولت سے مالا مال علاقے ایبی پر بھی کوئی تصفیہ نہیں ہو سکا۔ جنوبی سوڈان تیل کی دولت سے مالامال ہے لیکن وہاں سے نکلنے والا تیل شمالی سوڈان کی حدود سے گذر کر بندرگاہ تک پہنچتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان محصولات کی ادائی کے لیے کسی میکانزم پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے شمالی سوڈان گذشتہ سال جولائی کے بعد سے محصولات کی رقم وصول نہیں کر سکا ہے۔