منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 24 جمادى الأولى 1433هـ - 16 اپریل 2012م KSA 07:59 - GMT 04:59

منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہو گا جس پر ساڑھے چار ارب ریال لاگت آئے گی

سعودی عرب دنیا کے بلند ترین ٹاور کی تعمیر کی جانب گامزن

پیر 24 جمادى الأولى 1433هـ - 16 اپریل 2012م
ریاض ۔ خالد الشائع

سعودی عرب کی شاہی ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ ولید بن طلال بن عبدالعزیز آل سعود نے کہا ہے کہ وہ جدہ شہر میں دنیا کا بلند ترین ٹاور تعمیر کرا رہے ہیں۔ یہ منصوبہ تریسٹھ ماہ میں مکمل ہو گا جس پر چار ارب ساٹھ لاکھ ریال لاگت آئے گی۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق شہزادہ ولید بن طلال نے جدہ میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ دنیا کے طویل ترین ٹاور کے اس منصوبے میں کئی تعمیراتی کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ ان میں بن لادن لمیٹیڈ گروپ ڈیڑھ ارب ریال یعنی مجموعی طور پر 16 اعشاریہ چھے تین فی صد کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ بلند ترین ٹاور کے لیے ساحلی شہر جدہ کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں ایک ہزار میٹر بلند ٹاور پانچ سال تین ماہ کے عرصے میں مکمل کر لیا جائے گا۔ منصوبے کی نگرانی جدہ اکنامک کمپنی کو دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جدہ اکنامک کمپنی"جے ای سی" نے بعض دیگر تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ مل کر دنیا کے بلند ترین ٹاور کی تعمیر کے لیے پرمٹ حاصل کیا۔ اس میں "جے ای سی" کی کل سرمایہ کاری کا حجم 33 اعشاریہ تین پانچ جبکہ "ابرار انٹرنیشنل" کا بھی 33 اعشاریہ تین پانچ فی صد ہے۔ جدہ کے شمال میں بحر احمر کے کنارے زیر تعمیر ٹاور تین اعشاریہ پانچ ملین مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

منصوبے کے نگران اور بن طلال کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن انجینئر طلال المیمان نے ٹاور کی اقتصادی اور سیاحتی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جدہ میں زیر تعمیر یہ پراجیکٹ مملکت سعودی عرب کو تعمیرات کی دنیا میں ایک اہم مقام دلائے گا اور یہ منصوبہ سعودی عرب کے جدید طرز تعمیر کی ایک اہم شاہکار ہی نہیں بلکہ اعلیٰ فن تعمیر کی علامت سمجھا جائے گا۔

منصوبے کے ایک دوسرے رکن عبدالرحمان حسن شربتلی نے کہا کہ "جدہ ٹاور کی تعمیر کی تکمیل کے بعد نہ صرف یہ ٹاور بلکہ جدہ شہر اور سعودی عرب دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ یہ منصوبہ لوگوں کو رہائش بھی فراہم کرے گا اور ہزاروں افراد کے لیے روزگار بھی۔ سیاحت بھی ہو گی۔ اس سے شہر اور ملک کی اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔

ٹاور کی چھت پانچ لاکھ مربع میٹر پر پھیلی ہو گی۔ اس میں ایک فور سیزن ہوٹل، اے کلاس دفاتر، بہترین رہائش گاہیں اور تجارتی مراکز کے علاوہ ٹاور کی چھت پر ایک کنٹرول ٹاور بھی نصب کیا جائے گا۔