لیبیا اور اس کے پڑوسی مسلمان ملک الجزائر کے درمیان گذشتہ ایک سال سے جاری سرد مہری کے بعد دونوں ملک تعلقات کے از سر نو آغاز پر متفق ہو گئے ہیں۔ الجیرین صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے لیبیا کی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل کو الجزائرکے دورے کے دعوت دی ہے جو انہوں نے قبول کر لی ہے۔ مبصرین ان کے اس دورے کو دونوں ملکوں کے مابین تلخیاں ختم کرنے اور دوستی کے آغاز کے اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق لیبیا کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ سعد شلمانی نے مصطفیٰ عبدالجلیل کے پیش آئند دورہ الجزائر پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسٹر جلیل الجیرین صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ سے دو طرفہ اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون، سرحدوں کی حفاظت اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور تبادلہ خیال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں سربراہ مملکت کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سرحد پار اسمگلنگ کی روک تھام، شہریوں کے غیر قانونی طور پر ایک دوسرے کے ممالک کے میں داخلے پر پابندی اور ما بعد انقلاب لیبیا کو درپیش چیلنجز جیسے موضوعات زیر بحث رہیں گے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیائی لیڈر مصطفیٰ عبدالجلیل کے دورہ الجزائر سے قبل ایک مذہبی لیڈر شیخ علی الصلابی نے خفیہ طور پر الجزائر کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے صدر بوتفلیقہ سے بھی ملاقات کی۔ الجیرین اخبار "الخبر" کو انٹرویو میں شیخ الصلابی کا کہنا تھا کہ ان کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔
قل ازیں مصطفیٰ عبدالجلیل الجزائر کے صدر بوتفلیقہ سے قطر اور تیونس میں بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں الجیرین وزیر خارجہ مراد مدلسی نے طرابلس کا دورہ کیا ہے جہاں نگراں وزیر داخلہ فوزی عبدالعال نے ان کا استقبال کیا۔ لیبیا میں زیر حراست الجیرین ریاست ایلیزی کے گورنر کی رہائی بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے نئے باب میں اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔
مبصرین کے خیال میں لیبی انقلابی لیڈر مصطفیٰ عبدالجلیل کا دورہ الجزائر دونوں ملکوں کے مابین پائے جانے والے تعلقات کے خلاء کو پر کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا کیونکہ گذشتہ برس سابق لیبیائی لیڈر کرنل قذافی کے خلاف شمالی اوقیانوس کی تنظیم "نیٹو" کے تعاون سے انقلاب برپا کرنے پر الجزائر نے لیبیا کی عبوری کونسل کو ملک کی نمائندہ جماعت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے ردعمل میں لیبی انقلابیوں نے بھی الجزائر کے ساتھ سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ طرابلس میں الجیرین سفارت خانے پر باغیوں کے حملے اور توڑ پھوڑ بھی اسی غم وغصے کا اظہار تھا۔
اس پر مستزاد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب الجزائر نے سابق حکمران خاندان اور کرنل قذافی کی باقیات کو اپنے ہاں غیر مشروط پناہ دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ الجزائر آج بھی قذافی خاندان کو پناہ دینے کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ الجیرین وزیر اعظم احمد اویحی نے کچھ عرصہ پیشتر فرانسیسی اخبار "لی مونڈ" کو انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے قذافی کے خاندان کے بعض افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دی ہے۔
یہ لوگ اس وقت تک الجزائر کی پناہ میں رہیں جب تک وہ مہمانی کی شرائط پر پورا اتریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے لیبیا کی عبوری حکومت کو بھی یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ مقتول لیڈر کرنل قذافی کے خاندان کے الجزائر میں قیام پر معترض نہ ہو کیونکہ ایسا کرنا انسانی ہمدردی کے پہلو سے ہماری ذمہ داری تھی۔ دوسری جانب لیبیا کی عبوری حکومت کرنل قذافی کے مفروف اہل خانہ کو طرابلس حکام کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔