اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ انسانی حقوق مبصرین نے آج سے شام میں اپنی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ دوسری جانب ناروے کے ایک اہم مبصر جنرل رابرٹ موڈ، کوفی عنان کے امن مشن سے نکل گئے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ وہ واپس اپنے وطن چلے گئے ہیں۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق عالمی مبصر مشن کے ارکان اتوار کی شام دمشق پہنچے تھے کچھ مزید مبصرین آج پہنچیں گے۔ تاہم شامی حکومت نے کہا ہے کہ وہ عالمی مبصرین کی سیکورٹی کی ذمہ دار نہیں۔
ادھر نیویارک میں "العربیہ" کے نامہ نگار نے مصدقہ ذرائع سے اطلاع دی ہے کوفی عنان کی سربراہی میں شام آنے والے عالمی امن مشن میں ناروے کے مندوب جنرل رابرٹ موڈ وطن واپس چلے گئے ہیں۔ وہ دوبارہ شام نہیں آئیں گے۔ خیال رہے کہ مسٹر موڈ کو حالیہ امن مشن کاسربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
گذشتہ ہفتے دمشق حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے عالمی امن مشن جنرل رابرٹ موڈ کی سربراہی میں دمشق پہنچا تھا۔ جنرل موڈ کی سربراہی میں آنے والے وفد نے شامی حکومت سے عالمی انسانی حقوق کے مندوبین کے اختیارات اور دائرہ کار کے بارے میں بات چیت کی تھی۔
کوفی عنان کے ترجمان احمد فوزی نے بھی جنرل رابرٹ موڈ کی وطن واپسی کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون جلد مشن کے نئے سربراہ کا تقرر کریں گے۔
شام کے لیے بین الاقوامی امن مبصر کوفی عنان کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ناروے کے مندوب جنرل رابرٹ موڈ اپنے حصے کی ذمہ داری مکمل کرنے کے بعد واپس ہوئے ہیں۔ وہ وطن واپس جانے سے قبل جنیوا جائیں گے جہاں وہ کمیشن کی گذشتہ ہفتے کی سرگرمیوں کے بارے میں کوفی عنان کو رپورٹ پیش کریں گے۔
جنرل رابرٹ موڈ کی امن مشن سے واپسی شامی حکومت کے لیے باعث حیرت ہے کیونکہ گذشتہ روز اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشار الجعفری نے مطالبہ کیا تھا کہ تکنیکی نوعیت کے عالمی امن مشن کو جنرل رابرٹ موڈ کی سربراہی میں دوبارہ دمشق بھیجے تاکہ پیش آئند ایام میں عالمی مبصرین کے پروٹوکول کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔
نیویارک میں عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے شامی سفیر نے انکشاف کیا ہے کہ جنرل رابرٹ موڈ اچانک شام سے کسی پیشگی اطلاع کے بغیر واپس چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر موڈ کے ساتھ ابھی بات چیت جاری تھی اور وزیر خارجہ ولید المعلم صرف ایک دن کے دورے پر ماسکو گئے تو پیچھے سے رابرٹ موڈ واپس چلے گئے۔
شامی سفیر نے رابرٹ موڈ کی اچانک واپسی پر حیرت و استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے کوفی عنان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بشار الجعفری کا کہنا تھا کہ اگر رابرٹ موڈ کو اتنی محدود مدت کے لیے امن مشن کا سربراہ مقرر کرنا مقصود تھا تو تو کوفی عنان کویہ تاثر دینے کی ضرورت نہیں تھی کہ پیش آئند وفد کی سربراہی بھی جنرل موڈ کو دی جائے گی۔ یا کم سے کم انہیں ایک اہم مبصر کی حیثیت سے وفد میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم ایسا نہیں کیا گیا انہیں کوفی عنان کے ان اقدامات پرتعجب ہے۔
قبل ازیں کوفی عنان کے ترجمان احمد فوزی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں بتایا تھا کہ اتوار کی شام اقوام متحدہ کے چھ امن مندوب دمشق پہنچیں گے۔ جو پیر سے اپنی امدادی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام عالمی مبصرین زرد رنگ کے ہیلمیٹ اور جیکٹس پہنیں گے تاکہ دور سے ان کی شناخت ہو سکے اوران کی جانوں کو کسی قسم کا خطرہ نہ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیر کے روز مزید پچیس امن رضا کار شام پہنچیں گے۔