مصر کا الیکشن کمیشن نااہل قراردیے گئے تین سرکردہ صدارتی امیدوار کی نظرثانی کی اپیلوں کا جائزہ لے رہا ہے جس کے بعد وہ اہل انتخابی امیدواروں کی فہرست جاری کرے گا۔
مصری روزنامے مصری الیوم نے الیکشن کمیشن کے حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ سوموار کو نااہل قراردیے گئے امیدواروں کی اپیلوں کا جائزہ لیا جارہا ہے اور اہل امیدواروں سے متعلق منگل کو فیصلہ کرلیا جائے گا اور بدھ کوان کی حتمی فہرست کو جاری کردی جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز تین سرکردہ صدارتی امیدواروں سابق انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان ،اخوان المسلمون کے امیدوار خیرت الشاطر اور سلفی سیاست دان حازم ابو اسماعیل کو فنی بنیادوں پر انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا جس کے بعد ان میں سے ایک امیدوار کا کہنا ہے انتخابات کو ایک بڑے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔الیکشن کمیشن نے رجسٹرڈ تئیس صدارتی امیدواروں میں سے دس کو نااہل قراردے دیا تھا۔
الیکشن کمیشن کے ایک عہدے دار طارق ابو عطا نے بتایا کہ عمر سلیمان قانون کے تحت پندرہ صوبوں میں درکار حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے جس کی وجہ سے انھیں نااہل قرار دیا گیا ہے جبکہ خیرت الشاطر کو اپنی رہائی کی مدت کے بعد چھے سال کا عرصہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا ہے۔انھیں گذشتہ سال مارچ میں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔
حازم ابو اسماعیل کو ان کی والدہ کی غیر ملکی شہریت ثابت ہونے پر نااہل قراردیا گیا ہے۔مصری قانون کے تحت صدارتی امیدوار ،ان کے والدین اور ان کی خاتون خانہ کے لیے صرف مصر کا شہری ہونا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ اسلام پسندوں کی بالادستی والی پارلیمان نے گذشتہ ہفتے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت سابق دور سے تعلق رکھنے والے عہدے داروں پر صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم ابھی حکمران مسلح افواج کی سپریم کونسل نے اس قانون کا جائزہ لینا ہے۔فوجی کونسل پارلیمان کے منظور کردہ اس قانون کی توثیق کردیتی ہے تو حسنی مبارک دور کے وزیراعظم احمد شفیق اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمروموسیٰ بھی نااہل قرار پائیں گے جو ایک طویل عرصے تک حسنی مبارک کی حکومت میں وزیرخارجہ رہے تھے۔
اخوان المسلمون کے امیدوار خیرت الشاطر کی انتخابی مہم کے ذمے دار مراد محمد علی کا کہنا ہے کہ ''ہم صدارتی دوڑ میں حصہ لینے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے''جبکہ سلفی امیدوار حازم ابو اسماعیل کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کی امریکی شہریت کے حوالے سے من گھڑت کہانی تراشی گئی ہے اور صدارتی کمیٹی نے تمام قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔
درایں اثناء الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عمر سلیمان نے صدارتی دوڑ میں شریک رہنے کے لیے اسیوط گورنری میں نو سو چھیانوے دستخط حاصل کر لیے ہیں جبکہ انھیں ایک ہزار دستخطوں کی ضرورت تھی۔انھوں نے اپنی نااہلی سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اخوان المسلمون کی سیاست میں بالادستی سے ملک پیچھے کی طرف چلا جائے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو یہ اسلامی جماعت سیاست میں رہے گی اور مصر کی سیاسی زندگی میں اس کا اہم کردار ہوگا۔