منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 24 جمادى الأولى 1433هـ - 16 اپریل 2012م KSA 18:13 - GMT 15:13

افغان سکیورٹی فورسز کا صورت حال پر قابو پانے کا دعویٰ

افغانستان: طالبان کے خودکش حملہ آوروں کا خاتمہ،کم سے کم 50 ہلاکتیں

پیر 24 جمادى الأولى 1433هـ - 16 اپریل 2012م
طالبان نے کابل میں تین علاقوں میں حملے کیے تھے۔
طالبان نے کابل میں تین علاقوں میں حملے کیے تھے۔
کابل۔العربیہ ڈاٹ نیٹ


افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مقامی سکیورٹی فورسز نے طالبان کے آخری خودکش حملہ آوروں کا بھی خاتمہ کردیا ہے اوراتوار سے جاری لڑائی میں کم سے کم پچاس افراد مارے گئے ہیں۔

افغان وزیر داخلہ بسم اللہ محمدی کا کہنا ہے کہ چھتیس خودکش حملہ آورہلاک گئے ہیں جبکہ ان کے ساتھ لڑائی میں آٹھ افغان سکیورٹی اہلکار اور تین شہری مارے گئے ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدق صدیقی کا کہنا ہے کہ تمام حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے اور لڑائی ختم ہوگئی ہے۔نیٹو اور افغان حکام کےبہ قول طالبان جنگجوؤں کے خلاف جوابی کارروائی میں افغان سکیورٹی فورسز نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ تاہم نیٹو کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان فورسز کی درخواست پر انھیں فضائی مدد مہیا کی گئی تھی۔

افغانستان میں نیٹو کے تحت ایساف فورس کے کمانڈر امریکی جنرل جان ایلن کا کہنا ہے کہ ''جس طرح افغان سکیورٹی فورسز نے کابل میں حملے کا جواب دیا ہے،مجھے اس پر فخر ہے۔وہ فوری طور پر موقع پر پہنچے تھےاور انھوں نے بھرپور طریقے سے حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے''۔

تاہم حملہ آور جس طرح کابل کے حساس مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں ،اس سے افغان سکیورٹی میں موجود خلا اور سقم کی نشاندہی ہوتی ہے اور افغانستان میں گذشتہ ایک عشرے سے جاری جنگ کے دوران طالبان کا کابل میں یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔

طالبان مزاحمت کاروں نے اتوار کو بیک وقت کابل اور تین ہمسایہ صوبوں میں راکٹ گرینیڈوں اور بموں سے حملے کیے تھے۔کابل میں انھوں نے ایک ہوٹل پر قبضے کے بعد پارلیمان میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔طالبان جنگجوؤں کی یہ کارروائی سترہ گھنٹے تک جاری رہی ہے اور افغان فورسز سوموار کو حملہ آوروں پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

طالبان نے کابل میں ڈپلومیٹک انکلیو اور تین دوسرے حساس علاقوں میں مربوط حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی خبررساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے موسم بہار میں ان کی کارروائیوں کا آغاز ہیں اور ان کی گذشتہ کئی ماہ سے منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔

خودکش حملہ آوروں نے شہر کے وسطی علاقے وزیراکبر خان میں واقع نوتعمیرشدہ کابل اسٹار ہوٹل پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ ہوٹل امریکی فوج کے ایک اڈے ،اقوام متحدہ کے دفاتر اور صدارتی محل کے نزدیک واقع ہے۔

حملہ آوروں نے پارلیمان کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی لیکن افغان سکیورٹی فورسز نے ان کے حملے کو پسپا کردیا۔وہ پارلیمان کے نزدیک واقع ایک عمارت پر قبضے کے بعد سوموار کی صبح تک افغان فورسز کی مزاحمت کرتے رہے ہیں۔

طالبان مزاحمت کاروں نے کابل کے علاوہ صوبہ لوگر کے گورنر کے دفاتر ،صوبہ گردیز اور پکتیا میں سرکاری عمارتوں ، پولیس ہیڈکوارٹرز اور ایک امریکی اڈے پر حملہ کیا تھا۔

حملہ آوروں نے افغان دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے کی نزدیکی عمارتوں کے علاوہ جرمنی ،جاپانی اور روسی سفارت خانوں اور برطانوی سفارت کاروں کے زیر استعمال ایک مکان پر بھی راکٹ گرینیڈ فائر کیے تھے۔ مشرقی شہر جلال آباد کے ہوائی اڈے کے داخلی دروازے سے چار حملہ آوروں نے گھسنے کی کوشش کی تھی لیکن انھیں باہر ہی روک دیا گیا تھا۔ان میں سے دونے خود کو دھماکے سے اڑادیا اور دو کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔