منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 25 جمادى الأولى 1433هـ - 17 اپریل 2012م KSA 06:38 - GMT 03:38

حقانی نیٹ ورک ایک سخت جان دشمن ہے:ہلیری کلنٹن

امریکا کا حقانی نیٹ ورک پر افغانستان میں بڑے حملے کا الزام

منگل 25 جمادى الأولى 1433هـ - 17 اپریل 2012م
واشنگٹن/اسلام آباد۔العربیہ ڈاٹ نیٹ


امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں پر افغان دارالحکومت کابل اور تین دوسرے صوبوں میں اہم عمارتوں اور غیرملکی سفارت خانوں پر بڑے حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک ایک سخت جان دشمن ہے۔وہ اس کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالتی رہيں گی۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جارج لٹل نے سوموار کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ابتدائی اشاریوں سے ظاہرہوتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کابل میں اتوار کو ہوئے حملوں میں ملوث ہے''۔

واضح رہے کہ امریکی عہدے دار ماضی میں بھی حقانی نیٹ ورک پر افغانستان میں فوجی تنصیبات اور غیرملکیوں پربڑے حملوں اور مزاحمتی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں نے پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے جہاں سے وہ افغانستان میں داخل ہوکر غیرملکی فوجوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

مسٹر جارج لٹل نے اعتراف کیا کہ جنگجوؤں نے بڑے ہی منظم اور مربوط انداز میں حملے کیے تھے لیکن افغان سکیورٹی فورسز نے موثر انداز میں جوابی کارروائی کرکے ان پر قابو پایا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ''افغانستان میں موسم بہار کے آغاز پر اس طرح کے حملے سے ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ جنگ زدہ ملک میں اس موسم میں بالعموم لڑائی میں شدت آجاتی ہے اور ہم اس طرح کی کارروائی کی توقع کررہے تھے اور ایسا ہوگیا ہے''۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کابل اور دوسرے علاقوں میں حملوں کو افغان اور خاص طور پر نیٹو کی قیادت میں فوج کی انٹیلی جنس ناکامی کا نتیجہ قراردیا ہے لیکن پینٹاگان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا کہ اتحادی فوج کو مزاحمت کاروں کی ہر کارروائی کا پیشگی علم ہو۔

انھوں نے کہا ''میں اس بات میں یقین نہیں رکھتا کہ یہ ایک انٹیلی جنس ناکامی ہے۔البتہ ہمیں اس بات کا احساس تھا کہ اس طرح کا واقعہ رونما ہوسکتا ہے''۔ترجمان نے اس حملے کے ویت نام جنگ کے دوران نئے سال کے آغاز کے موقع پر شمالی ویت نام کی فوج کے امریکی فوج پر بھرپور حملے سے موازنے کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ کوئی بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ یہ دہشت گردی کے حملوں کا ایک سلسلہ تھا''۔

مسٹر جارج لٹل نے کہا کہ ''میں اس حملے کی سنگینی اور شدت کو کم نہیں کررہا ہوں لیکن ان کا کسی طرح بھی ویت نام حملے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے''۔

سخت جان دشمن


درایں اثناء امریکی محکمہ خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے افغانستان میں جنگجوؤں کے حملے کے بعد ٹیلی فون پر بات کی ہے اور ان سے جنگجوؤں سے نبردآزما ہونے کے لیے مشترکہ ذمہ داری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

امريکي وزير خارجہ ہليری کلنٹن نے برازيل کے دارالحکومت برازيليا ميں صحافيوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقانی نيٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالتی رہيں گی۔ ہليری کلنٹن نے کہا کہ اس بات کے اشارے ملے ہيں کہ افغانستان ميں ہونے والے حملے ميں حقاني نيٹ ورک ملوث ہے اور انھوں نے ماضی میں بھی اپنے دورہ پاکستان ميں حقانی نيٹ ورک کے خلاف کارروائی کی بات کی تھی۔ ان کے بہ قول حقانی نيٹ ورک سخت جان دشمن ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل اوردوسرے علاقوں میں اتوار کو شروع ہوئے طالبان جنگجوؤں کے بیک وقت راکٹ گرینیڈوں اور بموں سے حملوں میں چھتیس حملہ آوروں سمیت اکاون افراد ہلاک اور چوہتر زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان مزاحمت کاروں نے کابل میں ایک ہوٹل پر قبضے کے بعد پارلیمان میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔انھوں نے امریکی سفارت خانے کی نزدیکی عمارتوں کے علاوہ جرمنی ،جاپانی اور روسی سفارت خانوں اور برطانوی سفارت کاروں کے زیر استعمال ایک مکان پر بھی راکٹ گرینیڈ فائر کیے تھے۔ یہ کارروائی اٹھارہ گھنٹے تک جاری رہی ہے اور افغان فورسز سوموار کو حملہ آوروں پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

لیکن اس حملے کے لیے جنگجو خودکش بمبار جس طرح کابل کے حساس مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں ،اس سے افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس میں موجود خلا اور سقم کی نشاندہی ہوتی ہے۔ افغانستان میں گذشتہ ایک عشرے سے جاری جنگ کے دوران طالبان کا کابل میں یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔