منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 25 جمادى الأولى 1433هـ - 17 اپریل 2012م KSA 19:41 - GMT 16:41

انتہا پسند یہودیوں کا معمر فلسطینی خاتون پر بہیمانہ تشدد

اسرائیل: فٹ بال میچ میں عربوں کے خلاف صہیونی نسل پرستی کابرملا اظہار

منگل 25 جمادى الأولى 1433هـ - 17 اپریل 2012م
العربیہ ڈاٹ نیٹ

مقبوضہ فلسطین کے شہر"عکا" میں اسرائیل کی دو فٹ بال ٹیموں کے حامی تماشائیوں نے دوران میچ عربوں اور فلسطینیوں کےخلاف نسل پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ عربوں کے خلاف یہودیوں کے نسل پرستانہ نعروں کو سُن کر ایک پچاس سالہ خاتون نے احتجاج کیا تو عربوں سے "خار کھائے" انتہا پسند یہودی نہتی خاتون پر پل پڑے اور اسے مار مار کر شدید زخمی کر دیا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق اتوار کو "عکا" میں ھبوعل کلب کے سامنے اسرائیل کی اول درجے کی دو فٹبال ٹیموں کے درمیان مقابلہ جاری تھا۔ اس دوران "بیتار القدس" نامی ٹیم کے حامی تماشائیوں نے عربوں کی تباہی اور ہلاکت کے لیے نعرے بازی شروع کر دی۔

اسرائیل کے عبرانی اخبار "ہارٹز" نے اسرائیلی تماشائیوں کے تشدد سے مجروحہ فلسطینی خاتون کا بیان نقل کیا ہے۔ پچاس سالہ مسز رالی مارگلیٹ کا کہنا ہے کہ "میں فٹ بال اسٹیڈیم کے قریب ہی اپنے گھر میں تھی جب میں نے عربوں کےخلاف اسرائیلی تماشائیوں کے نسل پرستانہ نعرے سنے۔ یہ لوگ" عرب مردہ باد" کے مسلسل نعرے لگا رہے تھے، چونکہ اسی طرح کا ایک واقعہ حال ہی میں القدس میں بھی پیش آ چکا تھا جہاں یہودیوں کی جانب سے عربوں کےخلاف شدید منافرت پھیلانے کی کوشش کی تھی۔

یہودیوں کی عرب دشمنی کے خلاف وہ احتجاج کے لیے ایک پوسٹر لے کر کھیل کے میدان کی جانب نکل پڑی۔ پوسٹر پر عربوں کے خلاف نسل پرستی نہ پھیلاؤ کے نعرے درج تھے۔ یہ میرا یہودیوں کے لیے ان کی نسل پرستی کےخلاف اپنے پرامن احتجاج کا اظہار تھا لیکن یہودی اسے بھی برداشت نہ کر سکے اورمیرے اوپرپل پڑے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ یہودیوں کو "عرب فوبیا" ہو گیا ہے اور وہ شدید نوعیت کے ہسٹیریا کا شکار ہیں۔ کسی نے میری جان بچانے میں مداخلت نہیں کی اور تمام انتہا پسند یہودی مل کرمجھ پر تشدد کرتے رہے۔ میرے سرمیں ضربیں لگائی گئیں"۔

مارگلیٹ کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے فوری بعد میں قریب ہی پولیس کے ایک تھانے میں ان انتہا پسندوں کےخلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ پولیس نے رپورٹ تو درج کر لی اور یقین بھی دلایا کہ وہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے گی لیکن اس کے باوجود اسے ابھی تک انصاف نہیں ملا۔

دوسری جانب بیتار القدس کلب کے ترجمان شاکید عساف نے یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ کر دیا کہ تماشائیوں کی کسی بھی حرکت کے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔ بیت المقدس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عساف کا کہنا تھا کہ وہ کھیل کے میدان کے اندر یا باہر کسی بھی جگہ نسل پرستانہ نعروں کی مذمت کرتے ہیں تاہم وہ کسی کےخلاف کارروائی کی حمایت نہیں کر سکتے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ اسرائیل کا فٹ بال کلب"بیتار القدس" عربوں کے ساتھ نسل پرستی کےحوالے سے اپنی خاص شہرت رکھتا ہے۔ ماضی میں دوسرے کلبوں کے زیر اہتمام ہونے والے میچوں میں عربوں کی جانب سے بھی اس کلب کے خوب لتے لیے جاتے رہے ہیں۔ عرب تماشائی بیتار القدس کو فلسطینیوں کےخلاف منافرت پھیلانے کا انتہا پسند یہودیوں کا ایک پلیٹ فارم قرار دے چکے ہیں۔