منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 25 جمادى الأولى 1433هـ - 17 اپریل 2012م KSA 16:40 - GMT 13:40

جی سی سی کے اجلاس سے قبل احمدی نژاد کا دھمکی آمیز بیان

ایرانی صدر کا علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کا اظہار

منگل 25 جمادى الأولى 1433هـ - 17 اپریل 2012م
ایرانی صدر نے عربوں کے ساتھ خلیج میں تعاون پر زوردیا ہے۔
ایرانی صدر نے عربوں کے ساتھ خلیج میں تعاون پر زوردیا ہے۔
دبئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ


ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ ایران اپنی علاقائی سالمیت کو درپیش کسی بھی خطرے کا پوری قوت سے جواب دے گا اور وہ خلیج میں سکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے عرب ہمسایوں کے ساتھ تعاون کو ترجیح دے گا۔

محمود احمدی نژاد نے یہ بات سالانہ فوجی دن کے موقع پر پاسداران انقلاب کے کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر ایران کے مفادات اور سرزمین کے خلاف کوئی بھی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی وجود اور خودمختاری کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

ایرانی صدر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ جزائر کی ملکیت کے تنازعے کے حوالے سے براہ راست کوئی بات نہیں کی۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ خلیج میں استحکام علاقائی تعاون میں مضمر ہے اور جہاں تک خلیج فارس کا تعلق ہے تو ہم تمام حکومتوں اوراقوام کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے سکیورٹی کو برقراررکھ سکتے ہیں اور غیرملکی مداخلت سے صرف تباہی اور تقسیم ہی کی راہ ہموار ہوگی۔

انھوں نے یہ بیان منگل کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزرائے خارجہ کے قطر میں اجلاس سے قبل جاری کیا ہے جس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جزائر کے تنازعے پر غورکیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے گیارہ اپریل کو متنازعہ جزیرے ابو موسیٰ کے دورے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اس تنازعے کوزیادہ دیر کے لیے برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔یو اے ای کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل ناہیان نے ابوظہبی میں سوموار کو ایک نیوزکانفرنس کے دوران ایران پر زوردیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کرے یا پھر بین الاقوامی ثالثی کو قبول کرنے کا اعلان کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم ہمیشہ کے لیے اس تنازعے کو تصفیہ طلب نہیں رکھ سکتے۔ہمیں اس کے حل کے لیے ایک واضح ڈیڈ لائن دینا ہوگی۔ اگر اس بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو پھر ہمیں عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنا پڑے گا یا پھر بین الاقوامی ثالثی کو قبول کرنا ہوگا''۔

سعودی عرب نے بھی ایرانی صدر کے دورے کی مخالفت کی ہے۔ سعودی کابینہ نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی صدر نے جزیرے کا دورہ کرکے متحدہ عرب امارات کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ دورہ متحدہ عرب امارات کے جزائر کے پُرامن حل کے ضمن میں کی جانے والی کوششوں کی راہ میں ایک غلط قدم ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ علی اکبر صالحی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''ہم توقع کرتے ہیں کہ دوسرا فریق واقعاتی غلط فہمیوں کے حوالے سے عقل ودانش اور ضبط وتحمل سے کام لے گا۔دوسری صورت میں معاملات پیچیدہ تر ہوجائیں گے''۔

ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ''ہم متحدہ عرب امارات کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں جیسا کہ اس سے ہمارے تجارتی اور اقتصادی تعلقات استوار ہیں۔اس صورت حال میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دوطرفہ بات چیت کے ذریعے ہی طے کیا جاسکتا ہے''۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات ابوموسیٰ سمیت تین جزیروں کی ملکیت کا دعوے دار ہے جبکہ ایران بھی ان پر اپنا حق ملکیت جتلا رہا ہے۔ایرانی صدر کے دورے کے بعد یو اے ای نے تہران سے اپنے سفیر سیف محمد عابد الزابی کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا اور ایران کی قومی فٹ بال ٹیم کے ساتھ ایک دوستانہ میچ کو بھی منسوخ کردیا تھا جو آج منگل کو کھیلا جانا تھا۔

یادرہے کہ ایران نے سابق شاہ رضا شاہ پہلوی کے دور میں خلیج میں واقع تین جزیروں ابوموسیٰ ،طنب ادنیٰ اور طنب اعلیٰ پر 1971ء میں قبضہ کرلیا تھا۔ان میں سے صرف ابو موسیٰ میں انسانی آبادی ہے اور اسے برطانیہ کے کنٹرول کے خاتمے کے بعد شارجہ اور ایران کے مشترکہ انتظام میں دے دیا گیا تھا لیکن اس کے بعد ایران نے اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔