برطانیہ کے سرحدی حکام نے راسخ العقیدہ عالم دین ابوقتادہ کو گرفتار کرلیا ہے اور انھیں اب ان کے آبائی وطن اردن بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
برطانیہ کے محکمہ داخلہ کے ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''بارڈر ایجنسی کے افسروں نے آج ابو قتادہ کو گرفتار کرلیا ہے اور ہم نے انھیں بتا دیا ہے کہ انھیں واپس بھیجنے کی کارروائی شروع کی جارہی ہے''۔
واضح رہے کہ برطانیہ گذشتہ چھے سال سے اکاون سالہ عالم دین کو اردن بدر کرنے کی کوشش کررہا ہے اور انھیں اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ قراردے چکا ہے لیکن برطانیہ کی یہ کوشش ہر مرتبہ انسانی حقوق کی بنیاد پر ناکام رہتی ہے۔ ابو قتادہ کو ایک ہسپانوی جج نے ماضی میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا ایک سنئیر مشیر قراردیا تھا۔
اسٹراسبرگ میں قائم یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے جنوری میں اپنے ایک حکم میں قراردیا تھا کہ برطانیہ ابو قتادہ کو اردن کے حوالے نہیں کرسکتا کیونکہ وہاں ان کے خلاف کسی بھی ٹرائل میں استعمال کیے گئے شواہد تشدد کے ذریعے لیے گئے ہوں گے۔
اردن کی ایک عدالت نے ابوقتادہ کو ان کی ملک میں عدم موجودگی میں 1998ء میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں قصوروار قراردیا تھا۔اب اگر انھیں دوبارہ اردن بدر کیا جاتا ہے توان کے خلاف یہ مقدمہ دوبارہ چلایا جائے گا۔
برطانیہ میں انھیں کچھ عرصہ قبل ضمانت کی سخت شرائط کے تحت رہا کردیا گیا تھا اور عدالت میں ان کے وکیل نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی حراست غیرقانونی ہے۔
برطانوی وزیرداخلہ تھریسا مے نے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے گذشتہ ماہ اردن کا دورہ کیا تھا جس میں انھوں نے اردنی حکام سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان کے خلاف تشدد سے حاصل کیے گَئے شواہد کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔
تھریسا مے منگل ہی کو ابو قتادہ سے متعلق پارلیمان کے ایوان زیریں دارالعوام میں بیان دینے والی تھیں۔اردن کی حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ اگر برطانیہ ابو قتادہ کو ملک بدر کرکے اس کے حوالے کرتا ہے تو ان کے خلاف منصفانہ اور شفاف انداز میں مقدمہ چلایا جائے گا۔