منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 25 جمادى الأولى 1433هـ - 17 اپریل 2012م KSA 21:30 - GMT 18:30

آزادی صحافت کی پاداش میں چار سال قید کاٹنے والے صحافی کا اعزاز

آذربائیجانی صحافی کے لیے یونیسکو کا پریس فریڈم ایوارڈ

منگل 25 جمادى الأولى 1433هـ - 17 اپریل 2012م
آذربائیجانی صحافی عین اللہ فتوح اللیوف کو گذشتہ سال جیل سے رہا کیا گیا تھا۔
آذربائیجانی صحافی عین اللہ فتوح اللیوف کو گذشتہ سال جیل سے رہا کیا گیا تھا۔
دبئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں


اقوام متحدہ کے تحت پیرس میں قائم تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے آذربائیجان سے تعلق رکھنے والے صحافی عین اللہ فتوح اللیوف کو صحافت کی آزادی کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ورلڈ پریس فریڈم اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔

یونیسکو نے منگل کو ان کے لیے ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے پورے کیرئیر کے دوران آزادیٔ اظہار اور پریس کی آزادی کے لیے ببانگ دہل جدوجہد کرتے رہے ہیں۔

پینتیس سالہ فتوح اللیوف کو گذشتہ سال جیل سے رہا کیا گیا تھا۔وہ سن دوہزار سات سے دہشت گردی اور منشیات سے متعلق الزامات میں جیل میں قید تھے ۔ میڈیا کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے ان کی گرفتاری کی مذمت کی تھی اور انھوں نے آذربائیجان کے حکام پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ اس صحافی کو خاموش کرانا چاہتے تھے۔

عین اللہ حکومت مخالف دو اخبارات کے ایڈیٹر رہے تھے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں متعدد مرتبہ آذر بائیجان کی حکومت پر آزادی اظہار کا گلا گھونٹنے کے الزامات عاید کرچکی ہیں۔

آذربائیجان کی حکومت نے ملک میں میڈیا کی آزادی کا گلا دبانے کے لیے سخت قوانین نافذ کررکھے ہیں اور ان قوانین کے تحت آذربائیجان کے دسیوں صحافیوں کو حالیہ برسوں کے دوران پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔

عین اللہ کو یونیسکو کا ایوارڈ تین مئی کو ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پرمنعقد کی جانے والی تقریب میں دیا جائے گا۔اس ایوارڈ کا سرکاری نام یونیسکو/جیلرمو کانو ورلڈ پریس فریڈم پرائز ہے۔یہ کولمبیا کے ایک مقتول صحافی کے نام سے معنون کیا گیا تھا۔انھیں 1986ء میں منشیات کے سوداگروں اور منشیات فروشوں کی مخالفت کی پاداش میں قتل کردیا گیا تھا۔گذشتہ سال یہ ایوارڈ ایرانی صحافی احمد زید آبادی کو دیا گیا تھا۔