سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اطلاع دی ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں سعودی سفارت خانے کو القاعدہ کے مطلوب رکن مشعل محمد رشید الشدوخی کی ٹیلیفون کال موصول ہوئی ہے۔ القاعدہ رکن نے ٹیلیفون کر کے اعتراف کیا ہے کہ اس کی تنظیم نے جنوبی یمن میں قائم سعودی قونصل خانے کے ایک سفارت کار عبداللہ الخالدی کو اغواء کیا ہے۔
خیال رہے کہ شدت پسند تنظیم القاعدہ کے رُکن عبداللہ الشدوخی کا نام یمن اور سعودی عرب کے سیکیورٹی اداروں کے ہاں مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے۔
سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ عدن میں قائم قونصل خانے سے اس کے ڈپٹی قونصلیٹ کو القاعدہ کے شدت پسندوں نے رواں سال اٹھائیس مارچ کو یرغمال بنایا تھا۔ القاعدہ رکن نے ٹیلیفون کر کے عبداللہ الخالدی کو یرغمال بنائے جانے کی تصدیق کی اور ساتھ ہی اس کی رہائی کے بدلے اپنے مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔ ان مطالبات میں سعودی عرب کے سیکیورٹی اداورں کی حراست میں موجود القاعدہ کے شدت پسندوں کی رہائی اور تاوان کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
ٹیلیفون کر کے شدت پسند تنظیم کے کمانڈر مشعل الشدوخی نے کہا کہ ریاض حکومت تحویل میں رکھے گئے ہمارے ساتھیوں کو یمن میں ہمارے حوالے کر دے۔ یاد رہے کہ ٹیلیفون کرنے والے کمانڈر مشعل الشدوخی کا تعلق سعودی عرب کے شہر قطیف سے ہے اور وہ کئی سال سے یمن کے دشوار گزار پہاڑوں میں روپوش القاعدہ کے عناصر میں سرگرم ہے۔
دوسری جانب سعودی خبر رساں ایجنسی نے یمن میں تعینات سعودی سفیر علی الحمدان اور شدت پسند کمانڈر الشدوخی کے درمیان ہونے والا طویل مکالمہ شائع کیا ہے۔
شدوخی نے بتایا کہ مغوی سفارت کارعبداللہ الخالدی تندرست ہیں اور انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہے"۔ ٹیلیفون کرکے الشدوخی نے اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ اسے جزیرہ عرب میں القاعدہ کی جہادی مہمات کے امیر ناصر الوحیشی کی ہدایت پر الخالدی کے بارے میں رابطہ کار مقرر کیا گیا ہے۔ جس کے بعد وہ سعودی حکام تک اپنے محروس ساتھیوں کی رہائی کے لیے مطالبات کی فہرست متعلقہ حکام تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اس نے مذاکرات کے لیے ایک وفد جنوبی یمن کے ضلع ابین میں بھیجنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا کوئی سمجھوتہ کیا جا سکے۔
صنعاء میں سعودی سفیر علی الحمدان اور شدت پسند کمانڈر مشعل الشدوخی کے درمیان طویل مکالمہ ہوا جس میں القاعدہ کمانڈر نے اپنے مطالبات کے ساتھ سعودی حکومت کو مغوی سفارت کار کے بارے میں خبردار بھی کیا۔ اس نے کہا کہ جب سے عبداللہ الخالدی کو یرغمال بنایا گیا ہے القاعدہ کے ارکان اس کے قتل کے لیے چھریاں تیز کر رہےہیں لیکن ہم اس کے قتل میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس کی قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ اگر سعودی حکومت نے ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے تو عبداللہ الخالدی کے زندہ واپسی کی ضمانت بھی نہیں دی جا سکتی۔ القاعدہ کمانڈر کا کہنا تھا کہ وہ مغوی کے بدلے میں تاوان بھی وصول کریں گے۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ یرغمالی سفارت کار کی رہائی کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے بارے میں یمنی حکام سے رابطے میں ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ القاعدہ کے قبضے میں موجود سفارت کار کو بخیریت رہائی دلوائی جائے۔ تاہم ریاض حکومت کی جانب سے القاعدہ کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بارے میں تاحال کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔
یہاں یہ امرقابل ذکر رہے کہ جنوبی یمن میں عدن سب سے بڑا شہر ہے جو گذشتہ کئی سال سے القاعدہ کی شورش کا شکار ہے۔ عدن کے ضلع ابین سمیت کئی دوسرے اہم مقامات پر اب بھی القاعدہ کے عناصر کا کنٹرول ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ گذشتہ برس سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف اٹھنے والے عوامی احتجاج سے القاعدہ کے عناصر کو فائدہ پہنچا اور وہ اندرون ملک احتجاج کو غنیمت جانتے ہوئے پے در پے کئی اہم اضلاع پر قبضہ کرتے چلے گئے۔ عبوری حکومت اور نئے صدر کے انتخاب کے بعد بھی القاعدہ کئی شہری علاقوں پر قابض ہے۔