منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 جمادى الأولى 1433هـ - 18 اپریل 2012م KSA 16:42 - GMT 13:42

سلامتی کونسل کا دونوں ممالک پر پابندیاں عاید کرنے پر غور

شمالی اور جنوبی سوڈان میں کشیدگی ،امریکی ایلچی کی خرطوم آمد

بدھ 26 جمادى الأولى 1433هـ - 18 اپریل 2012م
سوڈان اور جنوبی سوڈان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی پرنسٹن لمین۔
سوڈان اور جنوبی سوڈان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی پرنسٹن لمین۔
خرطوم۔العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں


سوڈان اور جنوبی سوڈان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی پرنسٹن لمین جوبا میں صدر سلفاکیر سے ملاقات کے بعد خرطوم پہنچے ہیں جہاں وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات چیت کریں گے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تنازعے پر غور کے بعد دونوں ممالک پر پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ پرنسٹن لمین خرطوم میں بھی بات چیت کے دوران تشدد کے غیرمشروط خاتمے پر زور دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم فریقین پر یہ زوردے رہے ہیں کہ وہ افریقی یونین کے امن عمل کے مطابق تشدد کا خاتمہ کریں۔

ادھر نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے منگل کی رات سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے اور دونوں ممالک پر تشدد کا خاتمہ نہ کرنے کی صورت میں پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اقوام متحدہ میں متعین امریکی سفیر سوسان رائس نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پندرہ رکنی سلامتی کونسل نے دونوں فریقوں پر دباؤ ڈالنے کے طریقوں بشمول پابندیاں عاید کرنے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

جنوبی سوڈان نے سوڈان کے ہیگلگ میں واقع تیل کے کنویں پر گذشتہ ہفتے قبضہ کرلیا تھا اور سوڈان نے وہاں سے جنوبی سوڈان کے فوجیوں کی واپسی تک اس کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنا علاقہ واپس لینے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔

امریکا نے جنوبی سوڈان پر زوردیا ہے کہ وہ شمالی سوڈان کے علاقے کو خالی کردے لیکن اس نے امریکا کی مدد پر انحصار کے باوجود اس کی بات ماننے سے انکار کردیا ہے اور اس کی فوج نے ہیگلگ کے علاقے میں تیل کے کنویں اور اس کے آس پاس اپنی پوزیشنیں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نے جنوبی سوڈان سے ہیلگلگ کے کنویں پر قبضہ اور فریقین پر تشدد کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے شمالی سوڈان کی فضائیہ کی جنوبی سوڈان کے شہری علاقوں میں بمباری کی بھی مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں ہفتے کے روز سے اب تک آٹھ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔

افریقی یونین اور بعض دوسرے ممالک نے سوڈان کے تیل کے ایک کنویں پر جنوبی سوڈان کی فوج کے قبضے کو غیر قانونی قراردے کر اس کی مذمت کی ہے اور دونوں ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ تباہ کن جنگ سے بچنے کے لیے اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ افریقی یونین شمالی اور جنوبی سوڈان کے درمیان تیل کی راہداری کے تنازعہ کو طے کرنے کے لیے بات چیت میں ثالث کا کردار ادا کررہی ہے لیکن جنوبی سوڈان کی فوج کے گذشتہ منگل کو ہیگلگ پر قبضے کے بعد گذشتہ بدھ کو سوڈان نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

جنوبی سوڈان اور سوڈان کے درمیان تیل کی آمدن میں حصے داری اور راہداری کی فیس کے تعین پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور اب انھوں نے باقاعدہ ایک تنازعے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تیل کی دولت سے مالامال علاقے ایبی پر بھی کوئی تصفیہ نہیں ہوسکا۔جنوبی سوڈان تیل کی دولت سے مالامال ہے لیکن وہاں سے نکلنے والا تیل شمالی سوڈان کی حدود سے گذر کر بندرگاہ تک پہنچتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان محصولات کی ادائی کے لیے کسی میکانزم پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے شمالی سوڈان گذشتہ سال جولائی کے بعد سے محصولات کی رقم وصول نہیں کرسکا ہے۔