منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 جمادى الأولى 1433هـ - 18 اپریل 2012م KSA 17:53 - GMT 14:53

اقوام متحدہ کے مبصرین کی تعیناتی میں رکاوٹیں حائل

شام:جنگ بندی کے باوجود تشدد اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری

بدھ 26 جمادى الأولى 1433هـ - 18 اپریل 2012م
مراکش کے کرنل احمد ہمیش کی قیادت میں  چھے مبصرین کی ٹیم شام پہنچی ہے۔
مراکش کے کرنل احمد ہمیش کی قیادت میں چھے مبصرین کی ٹیم شام پہنچی ہے۔
دبئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ


شام میں گذشتہ چھے روز سے جاری جنگ بندی کے باوجود تشدد اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اوراقوام متحدہ کے مبصرین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھیں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک کٹھن مرحلہ درپیش ہے۔

العربیہ ٹی وی نے شام کی مقامی رابطہ کمیٹیوں کے حوالے سے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ سرکاری سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید ستر افراد مارے گئے ہیں۔ان میں سے چالیس محاصرے کا شکار شمالی شہر ادلب میں مارے گئے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ ادلب کے علاوہ سرکاری سکیورٹی فورسز نے صدر بشارالاسد کے خلاف تحریک کے ایک اہم مرکز جنوبی صوبہ درعا کے علاقے بصرالحریر میں گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔اسدی فورسز نے وسطی شہر حمص کے علاقوں خالدیہ اور بائدہ میں بھی باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔

حزب اختلاف کے سب سے بڑے گروپ شامی قومی کونسل نے حکومت پر جنگ بندی کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے اور اقوام متحدہ کے مبصرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری فورسز کے ہاتھوں قتل عام کا جائزہ لینے کے لیے ادلب اور حمص کا فوری طور پر دورہ کریں۔

مراکش کے کرنل احمد ہمیش کی قیادت میں اقوام متحدہ کے چھے مبصرین پر مشتمل ہراول ٹیم شام میں ہے اور وہ ملک کے شورش زدہ علاقوں میں تیس مبصرین پر مشتمل مشن کی تعیناتی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ میں متعین سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں عالمی ادارے کے مبصرین کی تعیناتی سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے شام پر زوردیا ہے کہ وہ غیرمسلح فوجی مبصرین کو ملک بھر میں آزادانہ رسائی کی اجازت دے لیکن شام کی جانب سے اس مطالبے کے ردعمل میں کوئی جواب سامنے آیا ہے اور نہ اس نے ابھی تک عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے امن منصوبے پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا ہے۔