پاک آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ سیاچن کے تنازعے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ سیاچن گلیشئیر کے تنازعے کو حل کیا جانا چاہیے اور اس کو کیسے حل ہونا ہے،اس حوالے سے دونوں ممالک کو بات چیت کرنی چاہیے۔
جنرل کیانی نے یہ بات بدھ کو صحافیوں سے سوال وجواب کے ایک سیشن کے دوران کہی ہے۔وہ سیاچن کے علاقے میں واقع گیاری سیکٹر کا دورہ کرکے لوٹے تھے جہاں ایک سو اڑتیس پاکستانی فوجی افسر اور جوان برفانی تودے تلے دبے ہوئے ہیں اور انھیں وہاں سے نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
جنرل کیانی نے بدھ کو صدر آصف علی زرداری اور وزیرداخلہ عبدالرحمان ملک کے ہمراہ گیاری سیکٹر میں امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ان سے ایک روز قبل حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے بھی سیاچن کے تنازعے پر بھارت سے بات چیت پر زوردیا تھا اور کہا تھا کہ دونوں ممالک کو دفاع پر خرچ ہونے والی رقم کو عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کرنا چاہیے۔
میاں نوازشریف نے دونوں ممالک سے سیاچن سے فوجیں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس ضمن میں پاکستان کو پہل کرنی چاہیے۔یادرہے کہ وہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلہ میں واقع سیاچن کے علاقے پر بھارتی فوج نے سن انیس سو چوراسی میں قبضہ کرلیا تھا۔
تب سے دونوں ممالک کی فوجیں وہاں حالت جنگ میں ہیں اوران کا بھاری جانی اور مالی نقصان ہوچکا ہے۔ اس تنازعے کو طے کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ برسوں کے دوران مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں لیکن یہ تنازعہ طے نہیں ہوسکا۔یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے کسی آرمی چیف نے سیاچن پر بھارت سے مذاکرات پر زوردیا ہے اور اسے پاکستان کی طاقتور فوج کے دشمن ملک بھارت کے حوالے سے سخت موقف میں ایک بڑی تبدیلی قراردیا جارہا ہے۔