امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے شام کے صدر بشار الاسد کو اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے امن منصوبہ پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں سخت اقدامات کی دھمکی دی ہے۔
انھوں نے بدھ کو برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ بات باعث تشویش ہے کہ جب اقوام متحدہ کے مبصرین کو شام میں متعین کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے تو بشار الاسد کی فورسز کی بندوقیں حمص ،ادلب اور ہرکہیں بدستور چل رہی ہیں''۔
شام کی حکومت مخالف مقامی رابطہ کمیٹیوں کی اطلاع کے مطابق شمال مغربی شہر ادلب ،وسطی شہر حمص اور دوسرے علاقوں میں بدھ کو سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور بمباری میں بتیس افراد مارے گئے تھے۔ادلب کے نواح میں سڑک کے کنارے نصب بم کے پھٹنے سے سات فوجی مارے گئے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ''عالمی برداری کوفی عنان کے چھے نکاتی امن منصوبے کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہے یا بشار الاسد ملک میں امن قائم کرنے کا آخری موقع بھی کھو دیتے ہیں، اس صورت میں ہم ان کے خلاف اضافی اقدامات پر غور کریں گے''۔
ہلیری کلنٹن نے شام کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دی لیکن انھوں نے شامی باغیوں کو مسلح کرنے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔برسلز میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے وزرائے دفاع اور وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ''امریکا شامی اپوزیشن کو مہلک ہتھیار مہیا نہیں کر رہا ہے بلکہ اس کے بجائے وہ اس کے لیے مواصلاتی آلات اور غیر مہلک امداد مہیا کر رہا ہے''۔
واضح رہے کہ امریکی عہدے دار ماضی میں بھی شامی حزب اختلاف کو بے ضرر آلات مہیا کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔