مصر کے ایک سلفی رُکن پارلیمنٹ الشیخ انور البلکیمی نے چند ہفتے قبل ناک کی پلاسٹک سرجری کے بارے میں جھوٹ بولنے پرقوم سے معافی مانگ لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر صرف قوم کی خدمت کریں گے۔
ڈاکٹر انورالبکیمی گذشتہ ماہ اس وقت قوم میں ایک متنازعہ کردار بن کرسامنے آئے جب انہوں نے اپنی ناک کی کاسمیٹک سرجری کومخالفین کے حملے کا زخم قراردیا۔ تاہم ان کے ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ ناک کا زخم کسی کے حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ پلاسٹک سرجری کا نتیجہ ہے۔ البلکیمی کو اپنے اس جھوٹ کی پاداش میں پارٹی رکنیت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تھے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق بدھ کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران مسٹر بلکیمی نے ناک سرجری کے بارے میں بولے گئے جھوٹ پرقوم سے معافی مانگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب انسان ہیں اورغلطیاں انسانوں سے ہوتی ہیں، بہترین انسان وہ لوگ ہیں جو غلطی کا اعتراف کرکے اس پر توبہ تائب ہوتے ہیں۔ میں نے بھی ایک غلطی کی، قوم مجھے معاف کرے۔
قوم کی خدمت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ "میں یہ بات حلفا کہتا ہوں کہ میں چاہے پارلیمنٹ کا رکن رہوں یا نہ رہوں میری تمام ترکاوشیں پوری قوم کے لیے ہیں۔
خیال رہے کہ ناک کی پلاسٹک سرجری کرانے والے مصری رکن پارلیمنٹ انورالبلکیمی ناک سرجری کے زخم کو حملہ آوروں کے حملے کا نتیجہ قراردیے جانے کے بعد ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر سامنےآئے تھے۔ تاہم قاہرہ کے سلمیٰ اسپتال کے ڈاکٹروں نے ان کے جھوٹ کا بھانڈہ یہ کہہ کر پھوڑ دیا کہ شیخ البلکیمی اسپتال سے ناک کی کاسمیٹک سرجری کرانے کے فوری بعد اسپتال سے چلے گئے تھے۔
انور البلکیمی نے ناک پرلپٹی پٹی کے بارے میں نے اپنے دوست احباب کو بتایا تھا کہ وہ اسکندریہ کی طرف جا رہے تھے کہ پانچ نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے ان پرحملہ کرکے ان کی ناک کاٹ دی اوران کے پاس موجود ایک لاکھ پاؤنڈ کی رقم بھی ان سے چھین لی۔